உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اناو آبروریزی کیس : الہ آباد ہائی کورٹ کی سخت تنقید ، ریاست میں قانون وانتظام کی صورتحال انتہائی خراب

    لکھنو: انائو عصمت دری معاملہ میں آج جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ میں بحث پوری ہوگئی ہے۔ بحث کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ جمعہ کو دوپہر دوبجے ہائی کورٹ اپنا فیصلہ سنائے گا۔ بحث کے دوران چیف جسٹس ڈی بی بھونسلے نے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی کے قانونی نظام کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔

    لکھنو: انائو عصمت دری معاملہ میں آج جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ میں بحث پوری ہوگئی ہے۔ بحث کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ جمعہ کو دوپہر دوبجے ہائی کورٹ اپنا فیصلہ سنائے گا۔ بحث کے دوران چیف جسٹس ڈی بی بھونسلے نے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی کے قانونی نظام کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔

    لکھنو: انائو عصمت دری معاملہ میں آج جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ میں بحث پوری ہوگئی ہے۔ بحث کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ جمعہ کو دوپہر دوبجے ہائی کورٹ اپنا فیصلہ سنائے گا۔ بحث کے دوران چیف جسٹس ڈی بی بھونسلے نے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی کے قانونی نظام کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: انائو عصمت دری معاملہ میں آج جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ میں بحث پوری ہوگئی ہے۔ بحث کے بعد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ جمعہ کو دوپہر دوبجے ہائی کورٹ اپنا فیصلہ سنائے گا۔ بحث کے دوران چیف جسٹس ڈی بی بھونسلے نے معاملے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یوپی کے قانونی نظام کی صورتحال انتہائیخراب ہوچکی ہے۔ متاثرہ 6ماہ تک انصاف کے لئے مدد طلب کرتی رہی، لیکن کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ اس کے والد کی موت کے بعد پولیس نیند سے بیدار ہوئی۔ وکیل سے چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ آپ حکومت کی طرف سے ہیں یا ملزم کی طرف سے؟
      اس سے قبل لنچ کے بعد سماعت میں ریاستی حکومت کے سالسٹرجنرل نے قانونی عمل کے تحت کارروائی کرنے کی بات کہی۔ حکومت کے اس جواب پر عدالت نے ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ پولیس ہرمعاملے میں اسی طرح پہلے ثبوت جمع کرتی ہے۔
      اس کے بعد جسٹس جی ایس چترویدی کورٹ نے بھی اپنا موقف رکھا۔ فریقین کو سننے کے بعدعدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اس سے قبل صبح الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے دریافت کیا کہ معاملے میں ممبراسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی گرفتاری ابھی تک کیوں نہیں ہوئی ہے۔ ہائی کورٹ نے سرکار کے سالسٹر جنرل کو دو بجے تک کی مہلت دی اور کہا کہ بتائیں ممبراسمبلی کو گرفتار کریںگے یا نہیں؟ دراصل بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے معاملے میں خود نوٹس لیاتھا۔ اس پر آج جمعرات کو عدالت میں سماعت ہوئی ہے۔
      معاملے میں صبح ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے جانچ سی بی آئی کو سونپنے کی سفارش کی ہے۔ دراصل جمعرات کو جب سماعت شروع ہوئی تو ریاستی حکومت کے سالسٹر جنرل راگھویندر سنگھ نے بتایا کہ 20جون 2017کو متاثرہ کی ماں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس میں کہا گیاکہ بہلا پھسلا کر 3لوگ ان کی بیٹی کو بھگا لے گئے۔ معاملے میں پولس نے تینوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ان میں برجیش یادو، اودھیش تیواری اور شیوم گرفتار بھی کئے گئے، بعد میں تینوں ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 17اگست 2017کو لڑکی نے پہلی بار ممبراسمبلی کے خلاف وزیراعلیٰ سے شکایت کی۔ لڑکی نے الزام لگایا کہ اس کے ساتھ 4جون 2017کو اس کی عصمت دری کی گئی۔
      معاملے میں ایک نئی ایف آئی آر 12اپریل 2018کو ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد درج کی گئی ہے۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کی سفارش کردی ہے۔ ایف آئی آر میں بی جے پی ممبراسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو بھی ملزم بنایاگیاہے، اس کے بعد ہائی کورٹ نے سالسٹر جنرل سے پوچھا کہ ابھی تک ممبراسمبلی کو گرفتار کیوں نہیں کیاگیا۔ سالسٹر جنرل نے کہاکہ معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپی گئی ہے۔ کوئی اس جواب سے مطمئن نہیں ہوا۔
      First published: