ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی میں لو جہاد کو ثابت نہیں کر پا رہی ہے ایس ٹی ایف کی جانچ ٹیم

یو پی میں مبینہ لو جہاد کے نام پرگرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں الہ آباد ہائی کورٹ نے لو جہاد کے معاملے میں جو تاریخی فیصلے دئے ہیں وہ ہندو لڑکی کے حق میں ہیں۔

  • Share this:
یوپی میں لو جہاد کو ثابت نہیں کر پا رہی ہے ایس ٹی ایف کی جانچ ٹیم
علامتی تصویر

الہ آباد۔ یو پی میں لو جہاد اور تبدیلی مذہب کے خلاف جار ی کئے گئے آرڈیننس کے بعد اب اس معاملے میں نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں ۔ ایس ٹی ایف نے مبینہ لو جہاد کے جن ۱۳؍ معاملوں کی جانچ کی ہے ،ان  میں سے  ایک معاملے میں بھی لو جہاد کو ثابت نہیں کیا جا سکا ہے ۔ ایس ٹی ایف کی جانچ ٹیم نے یہ بھی پایا ہے کہ لڑکی نے خود اپنی مرضی سے مسلم  لڑکے سے شادی کی ہے اور یہ کہ اس پر مذہب تبدیل کرنے کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا ہے۔


یو پی میں مبینہ لو جہاد  کے نام پرگرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں الہ آباد ہائی کورٹ نے لو جہاد کے معاملے میں جو تاریخی  فیصلے دئے ہیں وہ ہندو لڑکی کے حق میں ہیں۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اپنی پسند کی شادی کرنا یا مذہب اختیار کرنا  ہر شہری کا  بنیادی حق ہے ۔ لو جہاد معاملوں کے وکیل سید فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ اب تک ایس ٹی ایف نے لو جہاد کے جن معاملوں کی جانچ  کی ہے اس میں کسی طرح کی زور زبردستی یا دباؤ سامنے نہیں آیا ہے۔


لیکن دوسری جانب سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیمیں اس معاملے میں سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لو جہاد کے خلاف مہم چلانے والے ہندو جاگرن منچ  کاشی پرانت کے صدر دنیش نارئین سنگھ کا صاف کہنا ہے کہ ریاست میں  لو جہاد کے معاملوں کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کی دلیل ہے کہ خود قر آن میں غیر مسلموں سے شادی کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔ اس معاملے میں قانون دانوں کی رائے ہندو جاگرن منچ سے بالکل  مختلف ہے۔


سینئر ایڈو کیٹ فرمان احمد نقوی  کا کہنا ہے کہ قانون کی اصطلاح میں لو جہاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایس ٹی ایف  کی جانچ  سے بھی لو جہاد جیسی کوئی چیز سامنے  نہیں آئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بیشتر معاملوں میں  لڑکی نے خود اپنی مرضی سے مسلم لڑکے سے شادی کی ہے اور اپنا مذہب تبدیل کیا ہے۔ قانون دانوں  کا خیال ہے کہ لو جہاد کے معاملے عدالتوں میں آنے کے بعد قانون کے سامنے ٹک نہیں پائیں گے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 06, 2021 08:41 PM IST