உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غداری کے الزام کا سامنا کر رہے کنہیا اور عمر خالد کو نونرمان سینا کی دھمکی

    نئی دہلی۔ اترپردیش کی ایک سخت گیر سیاسی تنظیم نو نرمان سینا نے غداری کے الزام کا سامنا کر رہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین لیڈر کنہیا کمار اور اس کے ساتھی عمر خالد کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

    نئی دہلی۔ اترپردیش کی ایک سخت گیر سیاسی تنظیم نو نرمان سینا نے غداری کے الزام کا سامنا کر رہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین لیڈر کنہیا کمار اور اس کے ساتھی عمر خالد کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

    نئی دہلی۔ اترپردیش کی ایک سخت گیر سیاسی تنظیم نو نرمان سینا نے غداری کے الزام کا سامنا کر رہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین لیڈر کنہیا کمار اور اس کے ساتھی عمر خالد کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اترپردیش کی ایک سخت گیر سیاسی تنظیم نو نرمان سینا نے غداری کے الزام کا سامنا کر رہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین لیڈر کنہیا کمار اور اس کے ساتھی عمر خالد کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ تنظیم کے صدر امت جانی نے فیس بک پر پوسٹ کئے گئے پیغام میں کہا ہے کہ اگر ان دونوں طلبا نے درگااشٹمي سے پہلے 31 مارچ تک دہلی نہیں چھوڑی تو جے این یو کے احاطے میں گھس کر ان دونوں کا کام تمام کر دیا جائے گا۔


      تنظیم کنہیا کمار کے اس بیان سے کافی ناراض ہے، جس میں اس نے کہا تھا کہ جموں کشمیر میں ہندستانی فوجی خواتین کے ساتھ عصمت دری کر رہے ہیں۔ تنظیم کے صدر امت نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر وہ جےاین يو کے ان دونوں طلبا کے خلاف کچھ نہیں کر پائے تو سیاست سے کنارہ کشی کرلیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ کوئی چاہے تو انہیں گالی دے سکتا ہے، ان کے خاندان والوں کو گالی دے سکتا ہے اور یہاں تک کہ ان کے مذہب کے خلاف بول سکتا ہے۔ وہ سب برداشت کر لیں گے لیکن ملک کا فخر تصور کی جانے والی ہندوستانی فوج کے خلاف کچھ بھی برداشت نہیں کریں گے۔


      عالمی یوم خواتین کے موقع پر کنہیا نے یہ بیان دے کر نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا کہ جموں کشمیر میں ہوئی عصمت دری کے واقعات کے پیچھے کچھ ہندستانی فوجیوں کا ہاتھ رہا ہے۔ کنہیا کمار اور عمر خالد کو جے این یو میں 9 فروری کو منعقد ایک متنازعہ پروگرام میں موجود رہنے کی وجہ سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں عبوری ضمانت پر رہا کئے گئے ہیں۔

      First published: