உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش: کسانوں کو گاؤں سے باہر نہیں نکلنے دے رہی ہے پولیس

    اتر پردیش: کسانوں کو گاؤں سے باہر نہیں نکلنے دے رہی ہے پولیس

    اتر پردیش: کسانوں کو گاؤں سے باہر نہیں نکلنے دے رہی ہے پولیس

    بائیں بازو کی تنظیم اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمیتی نے دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں کسانوں اور مزدورں کو احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ کسانوں کے جلوس کو روکنے کے لئے مقامی پولیس کے علاوہ ریپڈ ایکشن فورس گاؤں کے آس پاس تعنیات کر دی گئی ہے۔

    • Share this:
    الہ آباد۔ زرعی قوانین کے خلاف دہلی میں جاری احتجاج میں شامل ہونے جا رہے کسانوں کو الہ آباد میں پولیس نے ان کے  گاؤں میں ہی روک دیا ہے ۔ الہ آباد سے بیس کلومٹر دور گھور پور علاقے میں بڑی تعداد میں  کسان اور مزدور زرعی قوانین کے خلاف جمع ہوئے ہیں۔ اس احتجاج میں گاؤں کی خواتین بھی  بڑی تعداد  شامل ہیں۔ گھور پور علاقے میں بائیں بازو کی کئی جماعتیں  کافی عرصے سے سرگرم  عمل ہیں۔ گھور پور کا علاقہ  بالو مزدوروں اور کسان تحریک کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے۔

    بائیں بازو کی تنظیم  اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمیتی نے دیہی علاقوں سے بڑی تعداد میں کسانوں اور مزدورں کو احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ کسانوں کے جلوس کو  روکنے کے لئے  مقامی پولیس کے علاوہ ریپڈ ایکشن فورس گاؤں کے آس پاس تعنیات کر دی گئی ہے۔ پولیس فورس  گاؤں کے لوگوں کو علاقے سے باہر  نہیں نکلنے دے رہی ہے۔پولیس کی ناکہ بندی کے  خلاف گاؤں کے کسانوں اور پولیس فورس کے درمیان کافی دیر تک کہا سنی ہوتی رہی۔

    اس دوران جلوس میں شامل کسانوں اور خواتین  نے  زرعی قوانین کے خلاف جم کرنعرے بازی کی اور حکومت سے زرعی قوانین کو  واپس لینے کا پر زور  مطالبہ کیا۔ جلوس کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر آشیش متل نے پولیس انتظامیہ پر الزام لگایا  ہے کہ وہ گاؤں کے کسانوں اور مزدوروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آشیش متل کا کہنا ہے کہ گھور پور میں کسان سنگھرش سمیتی کافی عرصے سے سر گرم  عمل ہے اور  یہ کہ  تنظیم کسانوں کے حقوق کے لئے کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مر کزی حکومت زرعی قوانین کو واپس نہیں لیتی کسانوں کا احتجاج یو ں ہی جا ری رہے گا۔

    اسی درمیان گھور پور علاقے سے پولیس نے کئی کسان لیڈروں کو اپنی حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے بعض کسانوں کو حراست میں لئے جانے کے بعد گاؤں کی خواتین سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: