ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیا یوپی میں حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس ختم کر دئیے جائیں گے؟

گذشتہ دنوں آسام میں امداد یافتہ دینی مدارس کو جس طرح سے ختم کیا گیا، اس کے بعد یو پی کے دینی مدارس کے وجود کو لیکر لوگوں کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دینی مدارس کے ذمہ داران کا خیال ہے کہ اگر آسام کا فارمولہ یو پی میں بھی آزمایا گیا تو یو پی مدرسہ بورڈ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

  • Share this:
کیا یوپی میں حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس ختم کر دئیے جائیں گے؟
کیا یوپی میں حکومت سے امداد یافتہ دینی مدارس ختم کر دئیے جائیں گے؟

الہ آباد۔ ریاست آسام  میں سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد اتر پردیش کے امداد یافتہ دینی مدارس میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے ۔ یو پی میں امداد یافتہ دینی مدارس کی کل تعداد ۵۶۰؍ ہے ۔امداد یافتہ دینی مدارس میں اس وقت  ۹۵۱۴ ؍ اساتذہ اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ امداد یافتہ دینی مدارس کے  علاوہ یو پی مدرسہ بورڈ سے تسلیم شدہ دینی مدارس کی کل تعداد ۱۹۲۱۳؍ ہے ۔تسلیم شدہ دینی مدارس ریاست کے دور دراز کے علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں غریب بچوں  کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔


ماضی میں یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ  عربی فارسی بورڈ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔عربی فارسی بورڈ کا قیام ایک صدی پہلے عمل میں آیا تھا ۔ یو پی تعلیمی  بورڈ کی طرح ہی عربی فارسی بورڈ بھی ریاست  کا ایک خود مختار  تعلیمی بورڈ ہوا کرتا تھا ۔ عربی فارسی بورڈ کے منشی اور مولوی کی اسناد کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ یہاں سے فارغ ہونے والے غیر مسلم افراد بھی اپنے نام کے آگے منشی اور مولوی بڑے فخر کے ساتھ  لگایا کرتے تھے ۔ ان میں مشہور افسانہ نگار منشی پریم چند اور ہندی کے معروف محقق مولوی مہیش پرساد کا نام شامل ہے۔


اپنے قیام کے وقت سے ہی عربی فارسی بورڈ  محکمہ تعلیم کے ماتحت  کام  کرتا رہا ہے ۔ لیکن ۱۹۹۶ میں عربی  فارسی بورڈ کو محکمہ تعلیم سے الگ کرکے اس کو محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کے ماتحت کر دیا گیا ۔ اس طرح ایک صدی پرانے عربی فارسی بورڈ کی اہمیت خود بہ خود  ختم ہو گئی ۔ ۱۴؍ دسمبر ۲۰۰۷ کو ریاستی حکومت  نے  عربی فارسی بورڈ کا نام بدل کر یو پی مدرسہ تعلیمی بورڈ کر دیا اور اس کا صدر مقام الہ آباد سے  لکھنؤ منتقل کر دیا گیا۔


گذشتہ دنوں آسام میں امداد یافتہ دینی مدارس کو جس طرح سے ختم کیا گیا، اس کے بعد یو پی کے  دینی مدارس کے وجود کو لیکر لوگوں کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دینی مدارس کے ذمہ داران کا خیال ہے کہ اگر آسام کا فارمولہ یو پی میں بھی آزمایا گیا تو  یو پی مدرسہ بورڈ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔

ریاست کی مشہور دینی درس گاہ جامعہ امامیہ انوار العلوم کے ترجمان جاوید رضوی کراروی کا کہنا ہے کہ  یوپی کے دینی مدارس میں پائی جانے والی تشویش کو دور کرنے کے لئے یوگی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے۔ جاوید رضوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ  دینی مدارس کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ اگر یوگی حکومت نے امداد یافتہ دینی مدارس کو ختم کرنے کا کوئی فیصلہ کیا تو مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں بیٹھنے والے ایک لاکھ سے زائد طلبہ اور طالبات مدرسے  کی تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 05, 2021 09:32 PM IST