ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آگ پر ماتم کرنے سے ملتا ہے سکون، ہندو عزادار شیوم کا اظہار خیال

لکھنئو کے شیوم اگنے ہوتری ایک چوبیس سال کے جوان ہیں جو دس سال کی عمر سے اب تک مسلسل آگ کا ماتم کرتے آرہے ہیں۔ عباس علمدار کا علم اٹھاتے آرہے ہیں۔

  • Share this:
آگ پر ماتم کرنے سے ملتا ہے سکون، ہندو عزادار شیوم کا اظہار خیال
علامتی تصویر

لکھنئو۔ در حسین پہ آتے ہیں ہر خیال کے لوگ۔ یہ اتحاد کا مرکز ہے آدمی کے لئے۔ اگر اس شعر کے حقیقی اور عملی معنی سے روشناس ہونا ہے تو آپ کو علم وادب اور عزاداری کے اہم مرکز لکھنئو کا رخ کرنا پڑےگا۔ لکھنئو کی عزاداری پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں تعزیہ اور علم بنانے سے ماتم کرنے اور علم اٹھانے تک ہماری مشترکہ تہذیب پر مبنی ایسے دلکش و دیدہ زیب منظر سامنے آتے ہیں جو اہل بیت و اطہار کی عظمت و عقیدت کا اعتراف کراتے ہیں۔


لکھنئو کے شیوم اگنے ہوتری ایک چوبیس سال کے جوان ہیں جو دس سال کی عمر سے اب تک مسلسل آگ کا ماتم کرتے آرہے ہیں۔ عباس علمدار کا علم اٹھاتے آرہے ہیں۔جب شیوم  سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں تو شیوم کا جواب دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ اہل بیت سے اٹوٹ عقیدت کا مظہر بھی تھا۔ شیوم نے بتایا کہ جب ان کی عمر صرف دس سال کی تھی تو ان کو کچھ شرپسند عناصر کے ذریعے اغوا کرلیا گیا تھا۔ والدین نے بہت کوشش کی پولس کی مدد بھی لی لیکن ناکامی نصیب ہوتی رہی۔ پھر  ایک فقیر کے کہنے پر ماں نے لکھنئو واقع دریا والی مسجد میں حضرت عباس کا علم تھام کر مشکل کشا کی بارگاہ میں حاجت پیش کی اور میری رہائی ممکن ہو سکی۔ تب سے میری ماں اور میں دونوں اس زندگی کو اہل بیت کی امانت مانتے ہیں اور اسی لئے ان کا غم منانے کے لئے میں حضرت عباس کا علم لے کر ہر سال آگ سے گزرتا ہوں اور یقین جانئے اس آگ سے گزرتے ہوئے جو شبنمی احساس ہوتا ہے اسے صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔


شیوم کے علاوہ بھی لکھنئو کے مختلف محلوں میں ایسے کافی غیر مسلم عزادار ہیں جو حضرت حسین کو اپنا رہبر وہادی مانتے ہیں اور محرم کو بڑی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ اہل بیت کسی ایک مسلک، قبیلے اور مذہب کے لئے ہی باعث رحمت نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے باعث تسکین و تسلیم ہیں جو ظلم و بربریت کے خلاف انسانیت کی بقاء کے لیے قربانی دینے کا جذبہ رکھتا ہے ۔شیوم یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے لیے کربلا کے کردار شیو جی اور درگا کی طرح ہی اہم اور قابل احترام ہے اس لئے وہ جب تک زندہ رہیں گے اہل بیت کو مانتے رہیں گے ان کا غم مناتے رہیں گے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 24, 2020 07:55 PM IST