உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کی حمایت والے بیان پر ڈاکٹر شفیق الرحمٰٰن برق نے دی وضاحت، بولے۔ میرے بیان کو غلط طرح سے پیش کیا گیا

    Youtube Video

    ڈاکٹر برق کا کہنا ہے کہ میں نے صرف اتنا بولا کہ میرے ملک کی جو پالیسی ہوگی میں اپنے ملک کے ساتھ ہوں، میں نے اس میں کیا جرم کر دیا میں نے طالبان کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی رائے دینے سے انکار کر دیا۔ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

    • Share this:
    سنبھل میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر برق نے طالبان کی حمایت میں بیان دینے والی خبروں پر صفائی دی ہے۔ 'میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا جب مجھ سے سوال کیا گیا تو میں نے صاف طور سے کہا، کہ مجھ سے کیا تعلق۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے صرف اتنا بولا کہ میرے ملک کی جو پالیسی ہوگی میں اپنے ملک کے ساتھ ہوں، میں نے اس میں کیا جرم کر دیا میں نے طالبان کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی رائے دینے سے انکار کر دیا۔ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

    وہیں ان  پر ایف آئی آر درج ہونے کے معاملے  پر شفیق الرحمین برق نے کہا کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے کیا وہ سچائی پر چلایا جائے گا، جو میرے خلاف جھوٹے الزام لگائے جا رہے ہیں سب بے بنیاد ہیں'۔ مجھے طالبان کی پالیسی سے کوئی مطلب نہیں ہے نہ میں ان کی سپورٹ میں ہوں۔ میں ہندستانی ہوں مجھے بس یہاں کی پالیسی سے مطلب ہے۔

    دراصل ماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق (Shafiqur Rahman Barq) جو ہمیشہ اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ خبروں کے مطابق اس بار انہوں نے افغانستان (Afghanistan) میں طالبان(Taliban) کے قبضے کی حمایت کرنے کا الزام تھا۔ اس کے بعد بی جے پی لیڈر راجیش سنگھل کی شکایت پر پولیس نے ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کے کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ سنبھل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ اُتر پردیش میں معروف لیڈر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124 اے (ملک سے غداری) کے علاوہ 153 اے اور 295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ان پر الزام ہے کہ شفیق الرحمن برق نے افغانستان میں طالبان کے قبضے کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کی آزادی افغانستان کا اپنا معاملہ ہے۔ امریکہ افغانستان میں کیوں حکومت کر رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ طالبان وہاں کی طاقت ہے۔ امریکہ ، روس کے طالبان نے پاؤں نہیں جمنے دئے۔افغان طالبان کی قیادت میں آزادی چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی پورا ملک انگریزوں سے لڑا۔ اگر سوال ہندوستان کا رہتا ہے تو پھر اگر کوئی یہاں اس پر قبضہ کرنے کے لیے آتا ہے تو ملک اس سے لڑنے کے لیے مضبوط ہے۔

    دوسری طرف سماجوادی یوجن مہاسبھا کے ضلعی جنرل سکریٹری چودھری فیضان شاہی نے بھی فیس بک پوسٹ کرکے تختہ پلٹ کیلئے مبارکباد دی ہے۔ بی جے پی لیڈر راجیش سنگھل کی شکایت کے بعد ایس پی ایم پی برق اور چودھری فیضان شاہی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: