ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتی طبقے پر فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے کو ایسے دباتی ہے یوپی پولیس

ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ پولیس کی سرپرستی میں کس طرح شرپسند عناصر مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

  • Share this:
اقلیتی طبقے پر فرقہ وارانہ تشدد کے معاملے کو ایسے دباتی ہے یوپی پولیس
ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ پولیس کی سرپرستی میں کس طرح شرپسند عناصر مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

میرٹھ ۔ گزشتہ ایک ہفتہ پہلے یوپی میں باغپت کے ڈولا گاؤں میں کرکٹ کے کھیل کے دوران آپسی جھگڑے کے بعد  فرقہ وارانہ تشدد کا ایک معاملہ پیش آیا تھا ، جس میں گاؤں کی راجپوت برادری کے لوگوں نے اقلیتی طبقے کے لوگوں کے گھروں پر تلوار ، لاٹھی اور پتھر سے حملہ کر دیا تھا لیکن اس معاملے میں پولیس نے جانبدارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نہ صرف اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی ہے بلکہ متاثرین پر ہی مقدمہ قائم کرکے فیصلہ کرنے اور ملزمین کو بچانے کی کوشش کی ہے اور یہ سارا معاملہ موبائل ویڈیو میں بھی ریکارڈ ہو گیا ہے۔


ویڈیو میں صاف نظر آ رہا ہے کہ پولیس کی سرپرستی میں کس طرح شرپسند عناصر مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہاتھوں میں تلوار لہراتے ہوئی گھروں پر حملہ کر رہے ہیں، پتھر چلا رہے ہیں اور پولیس کھڑے ہوکر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تشدد کے واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کانگریس کے مقامی لیڈران نے جب متاثرین سے ملنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان کو بھی گاؤں میں داخل ہونے سے روک دیا ، جس کے بعد اب کانگریس لیڈران نے پولیس کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے ملزمین کے خلاف سخت دفعات میں مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اس تعلق سے کانگریس اقلیتی کمیٹی کے ذمہ داران نے میرٹھ ضلع دفتر میں آج میٹنگ کا انعقاد کیا اور تشدد معاملے میں آگے کی کارروائی پر لائحہ عمل طے کیا۔ وائرل ویڈیو میں تشدد کا واقعہ پولیس کی موجودگی میں انجام دیا جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں فضیحت سے بچنے کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران نے معاملے پر کچھ کہنا تو دور بلکہ متاثرین پر دباؤ کے ذریعہ تحریر لیکر بغیر کارروائی کے سمجھوتہ کرانے کی کوشش کی ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 29, 2020 01:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading