ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: مسلم قیادت کا بحران، اقلیت پریشان

یوپی میں سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے مابین بڑھتے فاصلوں نے جہاں ایک طرف بر سر اقتدار بی جے پی کی اہمیت کو واضح کیا ہے وہیں کانگریس کے استحکام کے اشارے بھی دے دیے ہیں۔ اس عجیب اور غیر یقینی سیاسی صورت حال میں حاشیے پر زندگی گزار رہی سب سے بڑی اقلیت کے سامنے سب سے زیادہ مسائل ہیں اور مسائل کا حل بظاہر کسی کے پاس نہیں ہے۔

  • Share this:
اترپردیش: مسلم قیادت کا بحران، اقلیت پریشان
اترپردیش: مسلم قیادت کا بحران، اقلیت پریشان

لکھنئو۔ اترپردیش کا سیاسی منظر نامہ جس انداز سے کروٹیں بدل رہاہے اس نے سیاسی پنڈتوں،  مبصروں اور تجزیہ نگاروں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے مابین بڑھتے فاصلوں نے جہاں ایک طرف بر سر اقتدار بی جے پی کی اہمیت کو واضح کیا ہے وہیں کانگریس کے استحکام کے اشارے بھی دے دیے ہیں۔ اس عجیب اور غیر یقینی سیاسی صورت حال میں حاشیے پر زندگی گزار رہی سب سے بڑی اقلیت کے سامنے سب سے زیادہ مسائل ہیں اور مسائل کا حل بظاہر کسی کے پاس نہیں ہے۔


مسلم طبقے کی نہ کوئی اپنی قیادت ہے اور نہ سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی ایسا نام اور چہرہ ہے جسے باوقار اور بھروسے مند تصور کیا جاسکے۔ بی جے پی کے مسلم وزیروں اور عوامی نمائندوں سے اقلیت کے لوگ بدظن اور نالاں ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے اعظم خاں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے پاس نسیم الدین صدیقی کے بعد اگر لکھنئو میں کوئی اہم مسلم  چہرہ ہے تو وہ سابق ریاستی وزیر صلاح الدین صدیقی کا ہے۔ سابق ریاستی وزیر صلاح الدین کی سماجی و سیاسی نیز مذہبی خدمات کے حوالے سے یہ بات عام طور پر محسوس کی جاتی ہے کہ لکھنئو کے ہر طبقے اور سماج کے لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں اور خاص طور پر مسلم طبقے میں بھی انہیں ایک سلجھے ہوئے اور وقت پر کام آنے والے لیڈروں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔


صلاح الدین کہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی نظام میں ہر طبقے کے لوگ پریشان ہیں اور اب وہ سنجیدگی سے بی ایس پی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ صلاح الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر میڈیا نے حق اور انصاف کا مظاہرہ کیا ہوتا اور بہن جی کے بیانات اور ان کے عوامی خدمات کے جذبوں  کو صحیح طور پر پیش کیا ہوتا تو آج اتر پردیش کے لوگ خوش حال زندگی گزار رہے ہوتے۔ سابق وزیر صلاح الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ آنے والا وقت بی ایس پی کا ہے کیونکہ بی ایس پی واحد جماعت ہے جو صحیح معنوں میں سماج کے دبے کچلے، پچھڑے، غریب اور پریشان حال لوگوں کی نمائندگی اور ترجمانی کرتی رہی ہے۔ اسی لئے اتر پردیش کے لوگ ایک بار پھر بی ایس پی کی طرف یقین  و اعتماد سے دیکھ رہے ہیں۔ صلاح الدین صدیقی کے مطابق، بی جے پی سے لوگ بے پناہ ناراض ہیں۔ سماج وادی پارٹی عوام مخالف پالیسیوں اور داخلی انتشار کے سبب عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ کانگریس اتر پردیش میں اپنے وجود کی  ہی جنگ لڑ رہی ہے۔ لہٰذا بی ایس پی ہی ایسی جماعت ہے جو حق و انصاف کے راستے ہموار کر سکتی ہے۔


یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ لکھنئو کے علاوہ قرب وجوار کے علاقوں میں بھی صلاح الدین صدیقی کی شناخت ایک اہم اور درد مند لیڈر کی حیثیت سے قائم ہو رہی ہے جس کا فائدہ یقینی طور پر بی ایس پی کو پہنچ سکتا ہے۔ اتر پردیش کے حالیہ منظر نامے کے حوالے سے اور ضمنی الیکشن اور آئندہ الیکشن کے پس منظر میں صلاح الدین نے یہ بھی کہا کہ عوامی رابطوں کی مہمیں بدستور جاری ہیں اور پارٹی کی سربراہ بہن مایاوتی کی قیادت، ستیش چندر مشرا کی غیر معمولی سیاسی لیاقت اور اراکین کی لگن یہ بتاتی ہے کہ آنے والے وقت میں ایک بار پھر اتر پردیش کی سیاسی تقدیر بی ایس پی کے قلم سے لکھی جائے گی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 30, 2020 12:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading