உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اتر پردیش کے بدلتے سیاسی مناظر میں کون سی پارٹی کمزور ہے اور کون زیادہ طاقتور؟

     مشرق سے مغرب تک پوری ریاست میں سیاسی سرگرمیاں خاصی تیز ہوگئی ہیں اب دیکھنا یہی ہے کہ ان تحریکوں ، جلسوں ریلیوں یاتراؤں اور مظاہروں کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    مشرق سے مغرب تک پوری ریاست میں سیاسی سرگرمیاں خاصی تیز ہوگئی ہیں اب دیکھنا یہی ہے کہ ان تحریکوں ، جلسوں ریلیوں یاتراؤں اور مظاہروں کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    مشرق سے مغرب تک پوری ریاست میں سیاسی سرگرمیاں خاصی تیز ہوگئی ہیں اب دیکھنا یہی ہے کہ ان تحریکوں ، جلسوں ریلیوں یاتراؤں اور مظاہروں کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔

    • Share this:
    ریاست اتر پردیش پورے طور پر سیاسی سرگرمیوں کے حصار اور گرفت میں ہے ۔۲۰۲۲ کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے خاکے ،منصوبے ،دعوے اور وعدے لے کر ایک بار پھر عوام کے سامنے ہیں۔یوں تو سیاسی بیان بازی ، ایک دوسرے پر الزام تراشی قصیدہ خوانی و ہجو کا سلسلہ پہلے ہے شروع ہو چکا تھا لیکن لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے ساتھ پیش آئے واقعے کے بعد سے تو جیسے سیاسی آگ کے شعلوں نے آسمان چھو لیا ہو، پوری ریاست میں سیاسی آنچ کی تپش کو مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف کانگریس کی معروف لیڈر پرینکا گاندھی کی قیادت میں ہارٹی اراکین لکھنئو سے لکھیم پور اور بنارس تک اپنے غیر معمولی جد وجہد اور مشن کے ساتھ آواز بلند کررہے ہیں تو دوسری طرف حصولِ اقتدار کی دعویداری کرنے والے اکھلیش یادو بر سر اقتدار جماعت پر تنقید کرنے اور اس کے منفی عوامل و اقدامات کو سامنے لانے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔

    اس میں دورائے نہیں کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اتر پردیش میں بی جے پی کی پریشانیوں میں اضافہ بھی ہوا ہے اور سماج کے ہر طبقے کی جانب سے اسے سخت تنقید و مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ، لکھیم پور کے معاملے نے تو بی جے پی کی ساکھ ، شناخت اور تمام دعویداریوں پر کئی سوالیہ نشان لگائے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے لے کر پولس انتظامیہ کے رول اور رویوں کے خلاف کسانوں اور عوام کی جانب سے جو رد عمل دیکھنے کو ملا ہے وہ بے جے پی کے لئے اچھا اشاریہ نہیں۔

    اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوں تو کافی وقت پہلے ہی چناوی پروگراموں ، منصوبوں اور اسکیموں کے اعلانات اور ترقی و وکاس پر مبنی بیانات دے کر فضا ہموار کرنے میں لگ گئے ہیں لیکن سماج وادی ہارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کی وجے رتھ یاترا کے آغاز میں کانپور میں جو منظر دیکھنے کو ملا اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی کے لئے کامیابیُ کی ڈگر اس بار اتنی آسان نہیں ہوگی۔ اکھلیش یادو کی آواز پر ہزاروں لوگوں کا سامنے آکر لبیک کہنا یہ بتاتا ہے کہ بی جے پی کی بیان بازیوں اور منفی رویوں نے اکھلیش کے لیے آسانیاں پیدا کردی ہیں۔ اُدھر بنارس میں پرینکا گاندھی کو سننے کے لئے جمع ہوئے ہزاروں لوگوں نے بھی یہ اشارہ دیاہے کہ ابھی لوگوں میں پرینکا گاندھی کی محبوبیت قائم ہے یہ الگ بات ہے کہ آنے والے وقت میں یہ محبوبیت ووٹ میں منتقل ہوتی ہے یا نہیں۔

    وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے میں ایک بڑا عوامی اجلاس اور لکھنئو میں مظاہرہ اور خاموش احتجاج۔ ہر محاذ پر پرینکا کے ساتھ لوگ شامل رہے اور انکا والہانہ استقبال کیا گیا۔۔پرینکا گاندھی اور اکھلیش یادو ہی نہیں بلکہ اسد الدین اویسی، ستیش مشرا اور شیو پال یادو بھی پورے طور پر میدان سیاست میں ہیں اور موجودہ حکومت پر طنز و تنقید کا کوئی موقع نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں، اکھلیش یادو نے کانپور۔ سے وجے رتھ یاترا شروع کی ہے تو شیو پال یادو نے کرشن نگری متھرا سے پریورتن ریلی کا آغاز کردیا ہے، ستیش مشرا مایاوتی کی انتخابی حکمت عملی کے تحت بی ایس پی کی نمائندگی کرنے کے لئے بہرائچ اور لکھیم پور پہنچے ہیں تو اویسی نے بلرام پور سعد اللہ پور میں شیر کی آمد کا اعلان کرواکر چناوی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ مشرق سے مغرب تک پوری ریاست میں سیاسی سرگرمیاں خاصی تیز ہوگئی ہیں اب دیکھنا یہی ہے کہ ان تحریکوں ، جلسوں ریلیوں یاتراؤں اور مظاہروں کا لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: