ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: اقلیتی حقوق اور سیاسی محاذ آرائی

اترپردیش پر بہار الیکشن کے اثرات کس حد تک مرتب ہوں گے یہ تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن سیاسی جماعتوں کے مابین رسہ کشی اور بیان بازی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کسی بھی جماعت کے لئے اس بار اقتدار کی راہ آسان نہیں۔

  • Share this:
اترپردیش: اقلیتی حقوق اور سیاسی محاذ آرائی
اترپردیش: اقلیتی حقوق اور سیاسی محاذ آرائی

لکھنئو۔ اترپردیش پر بہار الیکشن کے اثرات کس حد تک مرتب ہوں گے یہ تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن سیاسی جماعتوں کے مابین رسہ کشی اور بیان بازی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کسی بھی جماعت کے لئے اس بار اقتدار کی راہ آسان نہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اقتدار تک پہنچا کر خود حاشیے پر رہ جانے والا مسلم سماج خود کو بار بار ٹھگا ہوا محسوس کر رہا ہے۔


معروف سیاسی و سماجی لیڈر صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ موجودہ اقتدار نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بی جے پی کے کسی بھی مثبت منصوبے میں مسلمانوں اور دلتوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ نئی اسکیموں میں تو مسلموں اور دلتوں کی شمولیت کی بات ہی کیا جو مراعات بہوجن سماج پارٹی کے اقتدار میں ان دبے کچلے اور خطِّ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کو دی گئی تھیں ان کو بھی ختم کر دیا گیا۔ عوامی رابطوں کے ذریعے غریب اور پریشان حال لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوششوں میں مصروف صلاح الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک ان لوگوں کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جائیں گے ہم سماجی ترقی کے خواب نہیں دیکھ سکیں گے۔


واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صلاح الدین نے جس انداز سے بغیر تفریق مذہب و ملت لوگوں کے مسائل حل کئے ہیں ان کی ستائش صرف سیاسی سطح پر نہیں بلکہ علماء اور دانشوروں کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ صلاح الدین مانتے ہیں کہ سیاسی قوت حاصل کرنے کے راستے عوامی خدمت سے ہی ہموار ہو سکتے ہیں ۔۔سیاسی مبصرین کے مطابق اتر پردیش سب سے بڑی ریاست ہے لیکن سب سے زیادہ بدحال ہے۔ کورونا سے پیدا شدہ مسائل اپنی جگہ لیکن مذہبی بنیاد پر پھیلائی گئی نفرت اور جرائم کے بڑھتے گراف نے ریاست کو تباہ کردیا ہے۔


سینئر صحافیوں کے مطابق عوام میں ایک اضطراب اور بے چینی ہے اور مسلم قیادت کے نام پر مایوسی ہے۔ معروف عالم دین مولانا ہارون کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے لئے کام کر رہی ہیں لیکن ایسے حالات میں صلاح الدین جیسے ان رہنماؤں کی طرف نگاہیں ضرور اٹھتی ہیں جو سماج کے تانے بانے کو مضبوط کر رہے ہیں۔ بی جے پی سے لوگ ناراض ہیں، سماج وادی پارٹی کے سربراہوں کو اعظم خاں جیسے لیڈروں کی بھی فکر نہیں اور کانگریس کی حالت سے کون باخبر نہیں۔ حال ہی میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے اس بیان کا اقلیتی طبقوں میں استقبال کیا گیا ہے کہ ہم کسی بھی قیمت پر کسی بھی حالت میں بی جے پی سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ سابق وزیر صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ ہماری جماعت عوامی خدمات کے ذریعے اقتدار تک پہنچے گی۔ بی ایس پی نے اتر پردیش سے جرائم کا خاتمہ کردیا تھا اور ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے بعد سماج کے سبھی طبقوں کے لئے امن و سکون، ترقی اور خوشحالی کی راہیں ہموار کی جائیں گی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 06, 2020 03:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading