اپنا ضلع منتخب کریں۔

    بھائی کے ساتھ بائیک سے کالج جا رہی تھی بہن، سر عام بدمعاشوں نے کر ڈالی گھنونی حرکت، CCTV  میں قید ہوا سب

    بائیک سے طالبہ کے اغوا کا یہ ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ سی سی ٹی فوٹیج میں طالبہ کے اغوا کی پوری واردات کیمرے میں قید ہوگئی ہے۔

    بائیک سے طالبہ کے اغوا کا یہ ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ سی سی ٹی فوٹیج میں طالبہ کے اغوا کی پوری واردات کیمرے میں قید ہوگئی ہے۔

    بائیک سے طالبہ کے اغوا کا یہ ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ سی سی ٹی فوٹیج میں طالبہ کے اغوا کی پوری واردات کیمرے میں قید ہوگئی ہے۔

    • Share this:
      بریلی: اتر پردیش کے بریلی میں مجرموں کے حوصلے اس قدر بلند ہو رہے ہیں کہ انہوں نے کوئی ڈر۔خوف ہی نہیں ہے۔ دراصل ان غنڈوں نے سرعام ایک طالبہ کو اغوا کر لیا۔ اغوا کی پوری واردات وہاں لگے سی سی ٹی وی کیمرہ میں قید ہو گئی جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے بدمعاشوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

      بائیک سے طالبہ کے اغوا کا یہ ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ سی سی ٹی فوٹیج میں طالبہ کے اغوا کی پوری واردات کیمرے میں قید ہوگئی ہے۔ دراصل بارادری تھانہ علاقے سے ایک طالبہ اپنے بھائی کے ساتھ بائیک پر کالج سے گھر آ رہی تھی تبھی راستے میں کچھ بدمعاشون نے بائیک روک کر چابی نکالی اور لرکی کو جبران اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد بدمعاشوں نے دوسری بائیک پر لڑکی کو جبرا بٹھایا اور لیکر فرار ہو گئے۔ وہیں یہ سارا معاملہ پاس میں ہی لگے سی سی ٹی میں ریکارڈ ہو گیا۔


      لڑکی کے اہل خانہ کی تحریر پر بارادری تھانے میں اس کے اغوا ہونے کا کیس درج کر لیا گیا ہے لیکن بڑی بات یہ ہے کی معاملے کے تین دن باوجود ابھی تک طالبہ کو پولیس برآمد نہیں کر پائی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کب تک طالبہ کو ڈھونڈ پاتی ہے اور اس واردات کو انجام دینے والے مجرموں کو گرفتار کرتی ہے۔ وہیں لوک لاج کے ڈر کے سبب طالبہ کے اہل خانہ نے میڈیا سے کچھ بی بتانے سے انکار کر دیا ہے۔

      پولیس عشق و محبت کی کر رہی ہے بات
      حالانکہ اس معاملے مین پولیس عشق و محبت کی بات کر رہی ہے۔ ایس ایس پی نے کہا کہ تھانہ بارادری علاقے کے تحت کڑکی جو اپنے عاشق کے ساتھ چلی گئی ہے جس کے سلسلے میں تھانہ مقامی ہر دفعہ 366 کے تحت مقدم درج ہے۔ پولیس کی کارروائی جاری ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: