உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bajrang Muni Das: مسلم خواتین کو عصمت دری کی دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار بجرنگ مونی داس کو ضمانت، کہا کوئی قصور نہیں

    ان کا ویڈیو بھی منظر عام پر آیا تھا۔

    ان کا ویڈیو بھی منظر عام پر آیا تھا۔

    داس کو 13 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا جب ایک رام نریش نے اس کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ رہائی کے بعد سیر نے کہا کہ وہ ایک ہزار بار جیل جانے اور کئی حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے مذہب اور خواتین کی حفاظت جاری رکھیں گے۔ اس نے کہا کہ میں نے جو کہا اس کے لیے میرا کوئی قصور نہیں ہے۔

    • Share this:
      مہارشی شری لکشمن داس اُداسی آشرم کے بجرنگ مونی داس (Bajrang Muni Das) کو مقامی عدالت نے ضمانت دے دی ہے۔ بجرنگ مونی داس نے مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر کی اور اتر پردیش کے سیتا پور میں ریپ کی دھمکی دی تھی، اب ان کو مقامی عدالت نے ضمانت دے دی ہے۔ ڈسٹرکٹ جج سنجے کمار نے سنیچر کو سیر کو ضمانت دے دی۔ انہیں اتوار کی صبح ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کیا گیا۔

      داس کو 13 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا جب ایک رام نریش نے اس کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ رہائی کے بعد سیر نے کہا کہ وہ ایک ہزار بار جیل جانے اور کئی حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے مذہب اور خواتین کی حفاظت جاری رکھیں گے۔ اس نے کہا کہ میں نے جو کہا اس کے لیے میرا کوئی قصور نہیں ہے۔
      یہ بھی پڑھیں: تلنگانہ : اردو میڈیم اساتذہ کی خالی اسامیوں پرجلد ہوسکتی ہے بھرتی، آئندہ 2دنوں میں ہوگا اجلاس

      سیتا پور کے خیر آباد قصبے میں مہارشی شری لکشمن داس اُداسی آشرم کے مہنت داس نے مبینہ طور پر 2 اپریل کو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی تھی۔ بعد میں اس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سامنے آیا۔ ایک مسجد کے باہر کی گئی تقریر کی دو منٹ کی ویڈیو میں اسے کسی کمیونٹی کا حوالہ دینے کے لیے "جہادی" کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے اور انہیں دھمکی دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر کسی ہندو لڑکی کو اس کمیونٹی کے کسی مرد نے ہراساں کیا تو وہ خود ان کی عصمت دری کر دے گا۔
      مزید پڑھیں: TMREIS: تلنگانہ اقلیتی رہائشی اسکول میں داخلوں کی آخری تاریخ 20 اپریل، 9 مئی سے امتحانات

      پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے چند گھنٹے بعد اپنے بیان پر معافی مانگتے ہوئے ان کا ایک اور ویڈیو بھی منظر عام پر آیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: