ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی : کاشی اور متھرا کے معاملے میں آر ایس ایس کا یو ٹرن

کاشی اور متھرا کے معاملے میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی طرف سے اچانک یو ٹرن لینے سے یو پی کی فرقہ وارانہ سیاست میں مذید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہو گیا ہے ۔

  • Share this:
یو پی : کاشی اور متھرا کے معاملے میں آر ایس ایس کا یو ٹرن
کاشی اور متھرا کے معاملے میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی طرف سے اچانک یو ٹرن لینے سے یو پی کی فرقہ وارانہ سیاست میں مذید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہو گیا ہے ۔

کاشی اور متھرا کے معاملے میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی طرف سے اچانک یو ٹرن لینے سے یو پی کی فرقہ وارانہ سیاست میں مذید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہو گیا ہے ۔ ابھی تک بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ پر مندر کے دعوے سے دور ر ہنے والے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی طرف سے اس معاملے میں تازہ بیان آنے پر یو پی کا سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے ۔ گذشتہ دنوں ورندا ون کے کیشو دھام میں سادھوں سنتوں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھوگوت نے رام مندر کی طرح ہی کاشی اور متھرا کے لئے تحریک چلانے کی بات کہی تھی ۔ موہن بھاگوت کے اس بیان پر سادھو سنتوں کی نمائندہ تنظیموں نے اپنے پرجوش خیر مقدم کا اظہار کیا ہے ۔


گذشتہ ۱۷؍ جنوری کو آر ایس ایس سر براہ موہن بھاگوت نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کاشی اور متھرا کا معاملہ آر ایس ایس کے ایجنڈا میں نہیں ہے ۔ لیکن اس کے دو دنوں بعد ہی ورندا ون میں سادھو سنتوں کے ساتھ ملاقات کے موقع پرآر ایس ایس سر براہ نے متھرا کی عید گاہ اور بنارس کی گیان واپی مسجد کے لئے چلائی جانے والی تحریک کی حمایت کرنے بھروسا دلا یا ہے ۔ سادھو سنتوں کی سب سے بڑی تنظیم اکھل بھارتیہ اکھا ڑا پریشد اوراکھل بھارتیہ ڈنڈی سنیاسی پریشد نے موہن بھاگوت کے اس بیان کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ اس کے لئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا ہے ۔ سادھوں سنتوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی عید گاہ کے لئے رام مندر کی طرح ہی آندولن چلانے کے حق میں ہے ۔


کاشی اور متھرا میں مندر کی تعمیر کے لئے ہر سال ماگھ میلے میں علامتی دھرنے پربیٹھنے والے مونی مہاراج نے کہا ہے کہ کاشی اور متھرا کے لئے تحریک چلانے کا خاکہ جلد تیار کر لیا جائے گا ۔ فی الحال آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشدا یودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے فنڈ جمع کرنے میں مصروف ہیں ۔ آر ایس ایس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ابھی صرف رام مندر کی تعمیر کی با ت کی جائے گی ۔ لیکن سادھوں سنتوں کی سب سے بڑی تنظیم نے موہن بھاگوت کے بیان کا جس طرح سے خیر مقدم کیا ہے ۔اس کو دیکھتے ہوئے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں رام مندر کی طرح ہی بنارس اور متھرا کی مساجد پر دعویٰ مضبوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jan 21, 2021 04:55 PM IST