ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی: کیا عبد اللہ اعظم کا سیاسی سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا؟

واضح رہے کہ گذشتہ سال ۱۶؍ دسمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں عبد اللہ اعظم کو رامپور کی سوار سیٹ سے نااہل قرار دیا تھا۔ عبد اللہ اعظم پر اپنے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش غلط لکھے جانے اور حقائق کو چھپانے کا الزام ہے۔ عبد اللہ اعظم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے فرضی طریقے سے تاریخ پیدائش کا سرٹیفیکیٹ بنوایا اور اس کو اپنے کاغذات نامزدگی میں استعمال کیا۔

  • Share this:
یو پی: کیا عبد اللہ اعظم کا سیاسی سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا؟
یو پی: کیا عبد اللہ اعظم کا سیاسی سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا؟

الہ آباد۔ سماج وادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ اعظم خان کے بیٹے عبد اللہ اعظم کا سیاسی سفرشروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہونے کے کگار پر پہنچ گیا ہے۔ فرضی برتھ سرٹیفکیٹ معاملے میں عبد اللہ اعظم اب بری طرح سے پھنستے نظر آ رہے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے عبد اللہ اعظم کو نا اہل قرار دئے جانے کے بعد  ان کے لئے انتخابی سیاست میں حصہ لے پانا ممکن نہ ہو پائے گا۔ یہی نہیں الہ آباد ہائی کور ٹ کی طرف سے عبد اللہ اعظم کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔


گذشتہ ۲۲؍ اکتوبرکو الہ آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو رامپور کے سواراسمبلی حلقے میں فوری طور سے ضمنی  چناؤ کرانے کا حکم دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے عبد اللہ اعظم کو نا اہل قرار دئے جانے کے بعد سوار اسمبلی حلقے کی سیٹ خالی  ہو گئی تھی۔ رامپور سوار تحصیل کی نگر پالیکا پریشد کے سابق صدر شفیق احمد انصاری نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرکے سوار اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب کرانے کی درخواست کی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے شفیق احمد انصاری کی عرضی پرسماعت کے  بعد یہ فیصلہ سنایا  ہے۔گرچہ عبد اللہ اعظم نے الہ آباد ہائی کورٹ کے  فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر رکھی ہے۔ تاہم الہ آباد ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو سوار اسمبلی حلقے میں فوری طور سے ضمنی چناؤ کرانے کا حکم دیا ہے۔


الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے عبد اللہ اعظم کو نا اہل قرار دئے جانے کے بعد ان کے لئے انتخابی سیاست میں حصہ لے پانا ممکن نہ ہو پائے گا۔


واضح رہے کہ گذشتہ سال ۱۶؍ دسمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں عبد اللہ اعظم کو رامپور کی سوار سیٹ سے نااہل قرار دیا  تھا۔ عبد اللہ اعظم پر اپنے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش  غلط لکھے جانے اور حقائق کو چھپانے کا الزام ہے۔ عبد اللہ اعظم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے فرضی طریقے سے تاریخ پیدائش کا سرٹیفیکیٹ بنوایا اور اس کو اپنے کاغذات نامزدگی میں استعمال کیا۔ اسی بنیاد پرالہ آباد ہائی کورٹ نے  عبد اللہ اعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت کی طرف سے عبداللہ اعظم کو نا اہل قرار دینے اور سوار اسمبلی سیٹ پر ضمنی انتخاب کرانے کے حکم کے بعد عبد اللہ اعظم کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دراصل رامپور کے بی جے پی لیڈر آکاش سکسینا نے عبد اللہ اعظم پر دوالگ الگ طرح کے برتھ سرٹیفیکٹ بنوانے اور فرضی ڈیٹ آف برتھ پرچناؤ لڑنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اس ایف آئی آر کے خلاف اعظم خان نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ طویل سماعت کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ سال ۱۶؍ دسمبر کو عبد اللہ اعظم کے چناؤ کو منسوخ کر دیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی گئی ہے جس پر ابھی فیصلہ آنا باقی ہے۔ لیکن جس طرح سے الہ آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو سوار اسمبلی سیٹ پر فوری  طور سے ضمنی انتخاب کرانے کا حکم دیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ عبد اللہ اعظم کا سیاسی سفر شروع ہونے سے پہلے ہی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ فی الحال عبد اللہ اعظم کے لئے انتخابی سیاست کے تمام راستے بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 24, 2020 04:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading