ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اتر پردیش میں صحافی بھی عتاب کا شکار، اظہار رائے کی آزادی پر پابندی؟

حکومت کی ایما اور اشارے پر عوام پر پولس کے بڑھتے مظالم ، ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے خلاف جارحانہ رویے اور جرائم کے بڑھتے گراف کے ساتھ ہی اب صحافی بھی مستقل عتاب کا شکار ہورہے ہیں۔ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ سوال کرنے کا حق کیوں چھینا جارہاہے۔

  • Share this:
اتر پردیش میں صحافی بھی عتاب کا شکار، اظہار رائے کی آزادی پر پابندی؟
اتر پردیش میں صحافی بھی عتاب کا شکار، اظہار رائے کی آزادی پر پابندی؟

لکھنئو۔ سماجی اور سیاسی سطح پر اتر پردیش کے بدلتے منظر نامے کے حوالے سے اب عام آدمی اور علماء کے ساتھ صحافی بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔ حکومت کی ایما اور اشارے پر عوام پر پولس کے بڑھتے مظالم ، ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے خلاف جارحانہ رویے اور جرائم کے بڑھتے گراف کے ساتھ ہی اب صحافی بھی مستقل عتاب کا شکار ہورہے ہیں۔ سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ سوال کرنے کا حق کیوں چھینا جارہاہے، لوگوں سے بولنے،  مظالم پر احتجاج کرنے کی آزادی کیوں چھینی جارہی ہے ، اقلیتوں اور پسماندہ لوگوں پر ہی مظالم کیوں برپا کئے جارہے ہیں ؟مافیاؤں کو سزا دینے کے نام پر سینکڑوں بے گناہوں کو کیوں زد و کوب کیا جارہا ہے ؟سوال بہت ہیں جواب صرف یہ ہے کہ یوگی حکومت سے سوال نہ کیا جائے۔


معروف صحافی اسعد رضوی کو جس انداز سے مختلف بنیادوں پر پریشان کیا جارہاہے، جس طرح سینئر صحافی عامر صابری کے اردو میڈیا دفتر پر پولس کے ذریعے ہی ناجائز قبضہ کرایا گیا اس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اب جمہوریت کا چوتھا ستون بھی نہایت کمزور اور بے معنی معلوم ہونے لگا ہے۔ اسعد رضوی کہتے ہیں کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں سوال کر رہا تھا ، میرا قصور یہ ہے کہ میں بے گناہوں کے خلاف پولس کارروائی کی خامیوں کو بے نقاب کر رہا تھا جس کی سزا یہ ملی ہے کہ نہ صرف مجھے مارا گیا بلکہ بدکلامی بھی کی گئی اور جس انداز سے پولس افسر اور اہلکاروں نے حقارت آمیز جملے ادا کئے اس سے یہ بھی احساس ہوا کہ اقلیتوں کے لئے ملک اور بالخصوص اتر پردیش میں صرف زمینیں ہی نہیں بلکہ ذہنیتیں بھی تنگ  ہو گئی ہیں۔


معروف عالم دین اور شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس کہتے ہیں کہ اسعد رضوی بے باک صحافی ہیں۔سماج کے کمزور طبقے کے لئے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ این آرسی اور سی اے اے کی تحریکات سے لے کر اب تک انتظامیہ ان کو نشانے پر لئے ہوئے ہے جو غیر جمہوری و غیر دستوری ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ مولانا یعسوب عباس نے یہ بھی کہا کہ کچھ چینلوں اور اخباروں پر حکومت کے دباو اور اثرات کو صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور جو صحافی عوام کے حق و انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں ان کے ساتھ نازیبا اور غیر انسانی سلوک کیا جارہاہے۔ اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔


عامر صابری تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پولس کی ذہنیت متعصبانہ ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم بھی کئے جارہے ہیں اور انہی سے ناجائز وصولی بھی کی جارہی ہے، احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں، انہیں جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر ضمانت کے بعد بھی رہا نہیں کیا جاتا ، صرف اپنی بات کہنے کی ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی  آزادی پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔ اتر پردیش میں صرف حکومت اور یوگی جی کے قصیدے پڑھنے والے لوگ ہی سلامت رہیں گے باقی جو آواز اٹھائے گا وہ یا تو جیل جائے گا یا لاٹھیاں کھائے گا۔ تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے، ایک سوال اور بھی ہے۔

مولانا رفسنجانی اور معروف سماجی رکن و دانشور سید بلال نورانی  کہتے ہیں کہ اس صورت حال کے لئے بد عنوانیوں میں ملوث صحافی پوری طرح ذمہ دار ہیں۔ اگر اس طبقے نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا ہوتا تو سماج و ملک کی تصویر ہی دوسری ہوتی اور آج ایماندار و حق پسند صحافی بھی پریشان نہ ہوتے۔ افسوس یہی ہے کہ نوے فیصد سے زیادہ اہل قلم صرف حکومت کے اشارے پر کام کر رہے ہیں جس سے پولس کے ساتھ ساتھ اب صحافت بھی مشکوک ہوتی جارہی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ امن پسند و شریف لوگ لب نہیں کھول سکتے۔ اپنے آئینی، دستوری، جمہوری اور سماجی و مذہبی حقوق بھی نہیں مانگ سکتے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آج جب خود صحافی پریشان ہیں تو سوائے چند سینئر صحافیوں کے ایک بڑا صحافتی طبقہ کیوں خاموش ہے ؟ وجہ یہی ہے کہ اب صحافیوں کو عوام ، معاشرے  اور ملک سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد کی فکر ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انتظامیہ اور حکومت من مانی کر رہی ہے۔جب تک ہمارے سیاسی لیڈروں مذہبی رہنماؤں اور خود صحافیوں کے ضمیر بیدار نہیں ہوں گے لوگ اظہار کی آزادی ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی آزادی سے محروم رہیں گے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 05, 2020 12:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading