ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ تشدد: آصف محمد خان سمیت کئی لوگوں کی گرفتاری کی افواہ پر ہنگامہ   

کئی گھنٹے تک جاری یہ ہنگامہ اس وقت ختم ہوا جب دہلی پولیس نے آصف محمد خان کو رہا کر دیا اور ان کی بات تھانہ جامعہ نگر میں ہنگامہ کر رہے مظاہرین سے کرائی گئی۔

  • Share this:
جامعہ تشدد: آصف محمد خان سمیت کئی لوگوں کی گرفتاری کی افواہ پر ہنگامہ   
کئی گھنٹے تک جاری یہ ہنگامہ اس وقت ختم ہوا جب دہلی پولیس نے آصف محمد خان کو رہا کر دیا اور ان کی بات تھانہ جامعہ نگر میں ہنگامہ کر رہے مظاہرین سے کرائی گئی۔

نئی دہلی۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے کے دوران گزشتہ ماہ 15 دسمبر کو نیوفرینڈس کالونی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئے تشدد کو بھڑکانے کے الزام میں دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے ذریعہ اوکھلا کے سابق ممبر اسمبلی اور کانگریس لیڈر آصف محمد خان کو گرفتار کرنے کی افواہ کو لے کر اوکھلا میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ کئی گھنٹے تک جاری یہ ہنگامہ اس وقت ختم ہوا جب دہلی پولیس نے آصف محمد خان کو رہا کر دیا اور ان کی بات تھانہ جامعہ نگر میں ہنگامہ کر رہے مظاہرین سے کرائی گئی۔


اس سے پہلے ان کے حامیوں کے درمیان ایسی خبریں گردش کررہی تھیں کہ آصف محمد  خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد لوگوں نے تقریبا دو گھنٹے تک جامعہ نگر تھانے کا محاصرہ کیا۔ اس دوران تھانے میں خان کے حامیوں کے علاوہ عام آدمی پارٹی (آپ) کے ممبر اسمبلی امانت ا لله خان بھی موجود رہے۔


آصف محمد خان ویسے تو کانگریس لیڈر ہیں لیکن ان کی گرفتاری کی مخالفت میں علاقے کے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان بھی اپنے حامیوں کے ساتھ جامعہ نگر تھانے پہنچے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کارکنان کے علاوہ علاقے کے سینکڑوں لوگ تھانے کے اندر اور باہر جمع ہو کر گھنٹوں ہنگامہ کرنے لگے۔ پولیس افسران ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہیں صرف پوچھ گچھ کے لئے بلایا گیا ہے لیکن لوگوں کا کہنا تھا کہ جب تک وہ واپس نہیں آئیں گے ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ ہنگامہ کر رہے لوگ یہ نعرے بھی لگاتے رہے کہ آصف تو بہانہ ہے، شاہین باغ کا احتجاج ختم کرانا ہے۔ بالآخر یہ ہنگامہ اس وقت ختم ہوا جب دہلی پولیس کی طرف سے آصف محمد خان کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا گیا۔


آصف محمد خان سمیت کئی لوگوں کی گرفتاری کی افواہ پر ہنگامہ


واضح رہے کہ سی اے اے کے خلاف گزشتہ 15 دسمبر کو جامعہ کے طلبا اور مقامی لوگوں نے احتجاجی مارچ نکالا تھا جس میں تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ اس دوران پولیس نے مبینہ طور پر جامعہ کیمپس میں گھس کر لائبریری میں توڑ پھوڑ کی اور طلبا کی بے رحمی سے پٹائی کی تھی۔ پولیس نے تشدد بھڑکانے کے معاملے میں آصف محمد خان سمیت متعدد مقامی لیڈروں کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 25, 2020 12:51 PM IST