ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سادھوی پراچی کے مسلم مکت بھارت والے متنازعہ بیان پر کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

سری نگر۔ جموں وکشمیر کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں جمعرات کو اُس وقت شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن ممبران نے مطالبہ کیا کہ ایوان کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) لیڈر سادھوی پراچی کے مبینہ بیان کہ ’مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا وقت آگیا ہے‘ کی مذمت کرنی چاہیے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 09, 2016 02:18 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سادھوی پراچی کے مسلم مکت بھارت والے متنازعہ بیان پر کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی
سری نگر۔ جموں وکشمیر کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں جمعرات کو اُس وقت شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن ممبران نے مطالبہ کیا کہ ایوان کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) لیڈر سادھوی پراچی کے مبینہ بیان کہ ’مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا وقت آگیا ہے‘ کی مذمت کرنی چاہیے۔

سری نگر۔  جموں وکشمیر کی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں جمعرات کو اُس وقت شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن ممبران نے مطالبہ کیا کہ ایوان کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) لیڈر سادھوی پراچی کے مبینہ بیان کہ ’مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا وقت آگیا ہے‘ کی مذمت کرنی چاہیے۔ جمعرات کی صبح جوں ہی قانون ساز اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو آزاد ممبر اسمبلی اور عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے وی ایچ پی لیڈر سادھوی کے مسلم مخالف بیان کا معاملہ اٹھایا۔


نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران نے بھی انجینئر رشید کا ساتھ دیا اور مشترکہ مطالبہ کیا کہ ایوان سادھوی پراچی کے مسلم مخالف بیان کی مذمت کرے۔ بی جے پی لیڈر اور ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ  نے فوری مداخلت کی اور کہا کہ پراچی کے بیان کی تا حال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراچی نے اگر واقعی ایسا کہا ہے تو غلط کہا ہے۔ نرمل سنگھ نے کہا ’ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جہاں ہر ایک کو رہنے کا برابر حق ہے‘۔ اس کے بعد ایوان میں امن کی فضا بحال ہوئی۔ تاہم قانون ساز کونسل میں اپوزیشن ممبران نے اُس وقت ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا جب چیئرمین نے سادھوی کے بیان کے خلاف قرارداد پاس کرانے سے متعلق اپوزیشن کے مطالبے کو مسترد کیا۔


جوں ہی کونسل کی کاروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن ممبران اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور وی ایچ پی لیڈر کے بیان کے خلاف قرارداد پاس کرانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ تاہم اس دوران اپوزیشن ممبران کی بی جے پی ممبران کے ساتھ لفظی بحث و تکرار ہوئی۔ بی جے پی لیڈران نے الزام عائد کیا کہ سادھوی پراچی کے خلاف احتجاج سے وہ حزب المجاہدین کمانڈر برہان الدین وانی اور پاکستان کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم جب قانون ساز کونسل کے چیئرمین حاجی عنایت علی نے کونسل ممبران سے کہا کہ وہ بیٹھ جائیں اور ایوان کی کاروائی کو چلنے دیں تو نیشنل کانفرنس اور کانگریس ممبران نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ قانون ساز کونسل میں کل بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے تھے جب شاہناز گنائی نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ تاہم ریاستی حکومت نے اِن تبصروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کے بغیر نامکمل ہے۔


وی ایچ پی لیڈر سادھوی پراچی جو اپنے متنازع بیانات کے لئے مشہور ہیں، نے مبینہ طور پر 7 جون کو اترپردیش میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا ہے کہ ملک کو کانگریس سے پاک کرنے کا مشن مکمل ہوچکا ہے اور اب اسے مسلمانوں سے پاک کرنے کا وقت آگیا ہے۔

First published: Jun 09, 2016 02:18 PM IST