ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بھاری ہنگامہ کے سبب لوک سبھا میں مسلسل نویں دن نہیں ہو سکا وقفہ سوالات

نئی دہلی۔ کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں اور حکمران قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حلیف تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے مختلف ایشوز پر بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج مسلسل نویں دن بھی وقفہ سوالات نہیں ہو سکا۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 15, 2018 02:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بھاری ہنگامہ کے سبب لوک سبھا میں مسلسل نویں دن نہیں ہو سکا وقفہ سوالات
علامتی تصویر

نئی دہلی۔ کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیوں اور حکمران قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حلیف تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے مختلف ایشوز پر بھاری ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج مسلسل نویں دن بھی وقفہ سوالات نہیں ہو سکا اور کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے جیسے ہی وقفہ سوالات شروع کیا، اپوزیشن پارٹیوں- کانگریس، ترنمول کانگریس، انادرمک، تلنگانہ راشٹر سمیتی، وائی ایس آر کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے رکن بینر اور تختیاں لے کر چیئرکے قریب آ گئے اور نعرے لگانے شروع کر دیئے۔


بھاری ہنگامے کے درمیان ہی اسپیکرکی اجازت سے بی جے پی کی ہیمامالنی نے پہلا سوال پوچھا اور دیہی ترقی کے وزیر مملکت رام کرپال یادو نے جواب دینا شروع کیا، لیکن ان کا جواب شور شرابے میں دب کر رہ گیا۔ اس پر وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے ہنگامہ کر رہے ارکان سے اپنی اپنی نشستوں پر جانے اور ایوان کا کام کاج آسانی سے چلنے دینے کی اپیل کی۔ کمار نے کہا کہ حکومت پہلے ہی دن سے بینک گھوٹالوں اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے سے متعلق تمام اہم مسائل پر بحث کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ مہا پنچایت‘ ہے اور حکومت تمام معاملات پر بات چیت کرنے کو تیار ہے۔ معزز اراکین اگر چیئر کے قریب آئیں گے تو مہا پنچایت میں کوئی کام کاج نہیں ہو پائے گا‘‘۔ پارلیمانی امور کے وزیر کی اپیل کا ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اورزیادہ زور زور سے نعرے لگانے لگے۔ ارکان کا ایوان نہ چلنے دینے کا رخ دیکھ کر اسپیکر نے دوپہر 12 بجے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی۔


گذشتہ پانچ مارچ کو بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلہ کے شروع ہونے کے دن سے ہی ان پارٹیوں کے ارکان کا ہنگامہ جاری ہے اور آج مسلسل نویں دن وقفہ سوالات نہیں ہو سکا ہے۔ اہم اپوزیشن کانگریس اور ترنمول کانگریس کے رکن جہاں پبلک سیکٹر کے بینکوں میں ہزاروں کروڑ روپے کے گھوٹالوں کے معاملوں پر نعرے لگا رہے ہیں، وہیں وائی ایس آر کانگریس اور ٹی ڈی پی ا رکان آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی مانگ کو لے کر ہنگامہ کر رہے ہیں۔


انادرمک رکن کاویری مینجمنٹ بورڈ قائم کرنے اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن تلنگانہ میں ریزرویشن کا کوٹہ بڑھائے جانے کی مانگ کر رہے ہیں۔

First published: Mar 15, 2018 02:34 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading