உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے میں ناکام، لوک سبھا کی کارروائی کل تک کیلئے ملتوی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ اپنے اپنے مطالبات کو لے کر اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج بھی عدم اعتماد کی تحریک کو ایوان کے سامنے نہیں پیش کیا جا سکا اور ایک بار پھر ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ اپنے اپنے مطالبات کو لے کر اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا میں آج بھی عدم اعتماد کی تحریک کو ایوان کے سامنے نہیں پیش کیا جا سکا اور ایک بار پھر ایوان کی کارروائی پورے دن کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے صبح میں وقفہ سوالات نہیں ہو سکا اور لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے ایک منٹ کے اندر ہی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر انادرمک اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کے صدر اور ’ ان لسٹیڈٖ ‘رکن راجیش رنجن عرف پپو یادو اپنی -اپنی مانگوں کی حمایت میں بینر اور پلے كارڈ لے کر اسپیکرکی چیئر کے قریب پہنچ کر نعرے لگانے لگے جبکہ تیلگو دیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے رہے۔


      انادرمک کے رکن کاویری آبی مینجمنٹ بورڈ قائم کرنے، ٹی آر ایس کے رکن منریگا کو کسان مزدوروں سے جوڑنے اور  یادو بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ شور و غل اور ہنگامے کے درمیان ہی اسپیکر نے ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر ركھوائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ اننت کمار نے کھڑے ہوکر کہا کہ حکومت عدم اعتماد کی تحریک سمیت کسی بھی معاملہ پر بحث کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس مکمل اکثریت ہے۔  کمار نے ارکان سے پرسکون رہنے اور اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کی لیکن چیئر کے پاس نعرے لگا رہے ارکان پر ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا۔


      اس کے بعد مسز مہاجن نے بھی ارکان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ایوان پرسکون نہیں ہوگا وہ عدم اعتماد کی حمایت والے 50 ارکان کی گنتی نہیں کر سکتیں۔ مسز مہاجن نے کہا کہ وہ کسی کو دیکھ نہیں پا رہی ہیں۔ اسپیکر کے اتنا کہتے ہی کانگریس، ترنمول کانگریس، بیجو جنتا دل، بائیں بازو کی پارٹی اور عام آدمی پارٹی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان  اپنی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر اور ہاتھ اٹھا کر قراردادکے تئیں حمایت کا اظہار کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس دوران کانگریس کے بہت کم اراکین ایوان میں موجود تھے۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر اسپیکر نے 12:05 منٹ پر ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کر دی۔


      اس سے پہلے 11 بجے وقفہ سوالات کی کارروائی شروع ہوتے ہی انادرمک اور ٹی آر ایس کے رکن اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان کے بیچوں بیچ پہنچ گئے جبکہ ٹی آر ایس اور وائی ایس آر کانگریس کے رکن اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ ایوان میں جاری ہنگامے کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے کاروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی تھی۔

      First published: