ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لوک سبھا میں ہنگامہ بدستور جاری، 18ویں روز بھی نہیں ہوسکا وقفہ سوالات

کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے مطالبہ پر انادرمک کے ارکان کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے آج لوک سبھا میں 18 ویں دن بھی وقفہ سوالات نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دو منٹ کے اندر دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 03, 2018 12:43 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لوک سبھا میں ہنگامہ بدستور جاری، 18ویں روز بھی نہیں ہوسکا وقفہ سوالات
لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن: فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے مطالبہ پر انادرمک کے ارکان کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے آج لوک سبھا میں 18 ویں دن بھی وقفہ سوالات نہیں ہوسکا اور ایوان کی کارروائی دو منٹ کے اندر دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی انادرمک کے رکن اسپیکر کی چیئر کے قریب پہنچ کر 'ہمیں انصاف چاہیے' کے نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے اپنے مطالبات والے پلےكارڈ بھی ہاتھوں میں لے رکھے تھے اور سیاہ، سفید اور سرخ رنگ کے ترنگے پٹکے بھی لگا رکھے تھے۔ اس دوران زرد پٹکا لگائے تیلگودیشم پارٹی کے ممبران اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے رہے۔


شور شرابے کے درمیان ہی کانگریس کے تمام اراکین اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر کچھ کہہ رہے تھے، لیکن ہنگامے میں ان کی آواز نہیں سنی جا سکی۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے ہنگامے کے درمیان ہی وقفہ سوالات شروع کیا اور ہنگامہ کر رہے ارکان سے ایوان میں پرسکون ہونے کی اپیل کی، لیکن ان کی اپیل کا ان ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد سمترا مہاجن نے 11 بجکر دو منٹ پر ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔


ادھر، راجیہ سبھا میں آج 41 نو منتخب ارکان کو حلف دلائے جانے کے بعد اپوزیشن ارکان کے مختلف ایشوز پر ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کے قیام، آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے اور دلتوں کے معاملہ پر اپوزیشن ارکان نے بھاری ہنگامہ کیا جس کے بعد چیئرمین کو ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر ركھوائے بغیر ہی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔ ہنگامے کی وجہ سے ایوان میں مسلسل 19 ویں روز وقفہ صفر اور وقفہ سوالات نہیں ہو سکا۔


ایوان بالا کی کارروائی شروع ہوتے ہی ایوان میں منتخب ہوکر آئے نئے اراکین کو رکنیت کا حلف دلایا گیا۔ چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے اس کے بعد جیسے ہی قانون سازی سے متعلق دستاویزات میز پر ركھوانے کی کوشش کی اے آئی اے ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس، کانگریس اور تلگودیشم پارٹی کے رکن تیزی سے چیئر کی طرف لپکے۔ ان کے ہاتھوں میں پوسٹر اور بینر تھے۔ ان ارکان نے اپنے مطالبات کی حمایت میں نعرے لگانے شروع کر دئیے۔

پانچ مارچ سے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے کے بعد سے ہی مختلف ایشوز کولے کر اپوزیشن کے بھاری ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی میں چلانے میں رکاوٹ ہو رہی ہے اور وقفہ سوالات نہیں ہو پا رہا ہے۔ موجودہ بجٹ سیشن چھ اپریل تک جاری رہے گا۔

 
First published: Apr 03, 2018 12:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading