உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی

    file photo

    file photo

    نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے خلاف لوک سبھا میں حزب اختلاف کے زبردست ہنگامے کی وجہ سے آج وقفہ سوالات نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے خلاف لوک سبھا میں حزب اختلاف کے زبردست ہنگامے کی وجہ سے آج وقفہ سوالات نہیں ہو سکا اور ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ ایوان کی کارروائی صبح 11 بجے جیسے ہی شروع ہوئی، کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے رکن ہاتھوں میں بینر اور پوسٹر لے کر ہنگامہ کرنے لگے۔ کانگریس اراکین کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینر تھے، جن پر لکھا تھا۔ 'نوٹ بندی کی وجہ سے 70 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون' اور 'وزیر اعظم ایوان میں آکر جواب دو۔ دیگر جماعتوں کے اراکین کے ہاتھوں میں بھی پوسٹر اور تختیاں تھیں جن پراسپیکر سمترا مہاجن نے ناراضگی ظاہر کی۔ ہنگامے کے درمیان ہی اسپیکر نے وقفہ سوالات شروع کر دیا اور الیکٹرانک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے جواب بھی دیا، لیکن اپوزیشن کا ہنگامہ اور تیز ہو گیا۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ ایوان میں اس طرح بڑے بڑے بینر لے کر مظاہرہ کر کارروائی میں رخنہ ڈالنا ایوان کے اصول کے خلاف ہے۔


      مسٹر کمار نے کہا کہ کانگریس 50برس سے زیادہ عرصہ تک اقتدار میں رہی ہے اور وہ ایوان کے اصولوں کے بارے میں جانتی ہے، اس کے باوجود اس کے رکن ضابطہ کے خلاف رویہ اختیار کر رہے ہیں، جو غیر مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوٹ بندی کے خلاف بحث کرانے کو تیار ہے، لیکن اپوزیشن خود اس سے بھاگ رہا ہے۔ پتہ نہیں، اپوزیشن پارٹیاں ایوان کی کارروائی میں کیوں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں گزشتہ دنوں آسام، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملی کامیابی اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ پورا ملک وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی کے فیصلے کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم اپوزیشن کا ہنگامہ جاری رہا اور صدر نے ایوان کی کارروائی 12 بجے تک ملتوی کر دی۔


      وہیں، نوٹ بندی کی وجہ سے نوٹ تبدیل کرنے کے لئے قطار میں لگنے کے دوران لوگوں کی موت ہونے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس معاملے پر ایوان میں ان کے بیان کی مانگ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے زبردست ہنگامے اور نعرے بازی اور حکمراں فریق کی جوابی نعرے بازی کی وجہ سے آج راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی اور وقفہ صفر نہیں ہو سکا۔ صبح ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر سابق اراکین رام نریش یادو اور ایم کے مینن اور موسیقار ایم بالا مرلی کرشنن کو خراج عقیدت پیش کرکے ضروری کاغذات کو ٹیبل پر رکھے جانے کے بعد کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، ترنمول کانگریس، جنتا دل یونائیٹڈ، ڈی ایم کے اور بائیں بازو کی جماعتوں کے رکن نظام کا سوال اٹھانے لگے۔


      بی ایس پی کی مایاوتی نے کہا کہ نوٹ بندی کے سبب پورے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے۔ اس کی وجہ سے نوٹ تبدیل کرنے کے دوران 75 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ انہوں نے چیئرمین سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو ایوان میں بلایا جانا چاہئے۔ نوٹ بندی پر وزیر اعظم پارلیمنٹ کا اجلاس جاری رہنے کے دوران ایوان میں بیان دینے کے بجائے باہر بیان دے رہے ہیں۔ یہ ایوان کی توہین ہے اور اس کے لئے وزیر اعظم ایوان سے معافی مانگیں۔ بائیں بازو کے سیتارام یچوری نے کہا کہ حکومت ایوان کے تئیں ذمہ دار ہوتی ہے لیکن مسٹر مودی جس دن سے وزیر اعظم بنے ہیں اسی دن سے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے شرد یادو نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے قطار میں لگے لوگوں کی موت ہو رہی ہے اور انہیں معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ حکومت کو فوری طور پر اس کا اعلان کرنا چاہئے۔

      First published: