ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی

نئی دہلی۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے پہلے دن آج بینک گھوٹالے، کاویری تنازع اور آندھرا پردیش کے معاملے پر ہنگامے کے سبب لوک سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور کارروائی کل تک کے لئے ملتوری کردی گئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 05, 2018 03:38 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے سیشن کے پہلے دن آج بینک گھوٹالے، کاویری تنازع اور آندھرا پردیش کے معاملے پر ہنگامے کے سبب لوک سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا اور کارروائی کل تک کے لئے ملتوری کردی گئی۔ وقفہ سوالات میں ایک بار کارروائی ملتوی کئے جانے کے بعد دوپہر 12 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوتے ہی کانگریس کے ممبران بینک گھوٹالے کے معاملے پر وزیراعظم سے جواب دینے، حکمران جماعت کی پارٹیوں ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبران، آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے، ٹی آر ایس کے ممبران تلنگانہ میں ریزروریشن کا کوٹہ بڑھانے نیز انا دراک کے ممبران کاکاویری ندی کے پانی کے تنازعہ کے معاملے پر اسپیکر کی نشست کے نزدیک آ کر نعرے بازی اور شور شرابہ کرنے لگے۔ ترنمول کانگریس کے ارکان بھی بینک گھوٹالے کے معاملے شور مچا رہے تھے۔


شور شرابے کے درمیان ہی لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے ضروری دستاویزات ایوان میں پیش کئے۔ انہوں نے ایوان کو ناگالینڈ سے لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ نیفیو ریو کے استعفے کی بھی اطلاع دی۔ اسپیکر نے بتایا کہ مسٹر ریو کا استعفی 22 فروری کو منظور کرلیا گیا ہے۔ اس دوران پیلی پٹی لگائے ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبر ’وی وانٹ جسٹس‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹی آر ایس کے ممبروں نے ہاتھوں میں تختیاں اٹھا رکھی تھیں جس میں لکھا تھا ’تلنگانہ ریاست کا ریزرویشن کوٹا بڑھاؤ‘ جبکہ انا درامک کے ممبر ان کاویری ندی کے معاملے پر شور شرابہ کررہے تھے۔ کانگریس کے کچھ ارکان بھی اسپیکر کی نشست کے نزدیک تھے اور وہ بینک گھوٹالے پر وزیراعظم نریندر مودی سے جواب دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس دوران کانگریس کی سابق صدر محترمہ سونیا گاندھی ایوان میں موجود تھیں۔ شور و ہنگامہ بڑھنے پر محترمہ مہاجن نے تقریبا 10 منٹوں میں ہی کارروائی کل تک کے لئے ملتوری کردی۔


اس سے قبل صبح کارروائی شروع ہونے پر اسپیکر سمترا مہاجن نے چار آنجہانی سابق ارکان مسٹر روڈولف روڈرگس، مسٹر کملا پرساد سنگھ، مسٹر كھگین داس اور کماری فریڈا ٹوپنو کے انتقال کی اطلاع دی اور تمام اراکین نے دو منٹ خاموش رہ کران ارکان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد وقفہ سوالات شروع ہوتے ہی ٹی ڈی پی، وائی ایس آر کانگریس، ٹی آر ایس اور انا درامک کے ممبران اپنے اپنے مطالبے لیکر اسپیکر کی چیئر کے پاس آکر شور و ہنگامہ کرنے لگے۔ ترنمول کانگریس اور کانگریس کے ارکان بینک گھوٹالے کا معاملہ اٹھا رہے تھے۔ انہوں نے نیرو مودی کہا گیا کے نعرے لگائے۔ اسپیکر نے اپوزیشن ممبران سے خاموش رہنے اور اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کی لیکن اس کا کوئی اثر ہوتا نہ دیکھ کر محترمہ مہاجن نے کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی کردی۔


First published: Mar 05, 2018 03:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading