உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عدم اعتماد کی تحریک کی تجویز پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، 1 منٹ میں ہی کارروائی ملتوی

    پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی کئی اپوزیشن لیڈران ویل میں جا کر ہنگامہ کرنے لگے

    پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی کئی اپوزیشن لیڈران ویل میں جا کر ہنگامہ کرنے لگے

    نریندر مودی کی حکومت کے خلاف وائی ایس آر کانگریس اور تیلگو دیشم پارٹی آج پیر کو لوک سبھا میں اپنی عدم اعتماد کی تحریک کی تجویز پیش کرنے کے لئے پرزور کوشش کرتی نظر آئیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ نریندر مودی کی حکومت کے خلاف وائی ایس آر کانگریس اور تیلگو دیشم پارٹی آج پیر کو لوک سبھا میں اپنی عدم اعتماد کی تحریک کی تجویز پیش کرنے کے لئے پرزور کوشش کرتی نظر آئیں۔ حالانکہ پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوتے ہی کئی اپوزیشن لیڈران ویل میں جا کر ہنگامہ کرنے لگے جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی شروع ہونے کے ایک منٹ بعد دوپہر 12 بجے تک جبکہ راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کرنی پڑی۔

      اس عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت میں جہاں کئی پارٹیاں متحد ہوتی نظر آ رہی ہیں وہیں پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا "ہم مکمل طور پر پر اعتماد ہیں۔ ہم ایوان میں اکثریت رکھتے ہیں اور ہم کسی بھی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

      لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی اپوزیشن پارٹیوں کا ہنگامہ بدستور جاری رہا جس کے مدنظر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے منٹ بھر میں ہی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی۔ ایسی صورت میں ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو اب دوبارہ عدم اعتماد کی تحریک کی تجویز پر بحث کے لئے نوٹس دینا ہو گا۔ کیونکہ یہ تجویز محض ایک دن کے لئے ہی ہوتی ہے۔
      First published: