உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اجلاس کا آخری دن: اپوزیشن کے ہنگامہ کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی ملتوی

    نئی دہلی۔  پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دن راجیہ سبھا میں کانگریس نے دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گھرے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے استعفی کے مطالبے پر آج مسلسل تیسرے روز جم کر ہنگامہ کیا اور وقفہ صفر کی کارروائی نہیں ہونے دی۔

    نئی دہلی۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دن راجیہ سبھا میں کانگریس نے دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گھرے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے استعفی کے مطالبے پر آج مسلسل تیسرے روز جم کر ہنگامہ کیا اور وقفہ صفر کی کارروائی نہیں ہونے دی۔

    نئی دہلی۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دن راجیہ سبھا میں کانگریس نے دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گھرے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے استعفی کے مطالبے پر آج مسلسل تیسرے روز جم کر ہنگامہ کیا اور وقفہ صفر کی کارروائی نہیں ہونے دی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری دن راجیہ سبھا میں کانگریس نے دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) میں مبینہ بدعنوانی کے الزام میں گھرے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے استعفی کے مطالبے پر آج مسلسل تیسرے روز جم کر ہنگامہ کیا اور وقفہ صفر کی کارروائی نہیں ہونے دی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر وقفہ صفر میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے اراکین نے پہلے اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے پتھر منگائے جانے کی مخالفت میں جم کر نعرے بازی کی اور ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کی گئی۔


      اس کے بعد جب ایوان کی کارروائی 11.35 منٹ پر دوبارہ شروع ہوئی تو کانگریسی ممبران وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے استعفی کا مطالبہ کرنے لگے اور چیئرمین کی نشست کے پاس آکر جم کر نعرے بازی کرنے لگے۔ مشتعل ممبران ' اب تو یہ صاف ہے ' "بی جے پی حکومت بدعنوان ہے" اور "وزیر خزانہ استعفی دو" کے نعرے لگا رہے تھے۔ تقریبا 35 منٹ تک وہ نشست صدارت کے پاس کھڑے رہے اور ہنگامہ کرتے رہے۔ اس دوران ڈپٹی چیئرمین پی جےكورين نے وقفہ صفر کی کارروائی جاری رکھی اور دیگر ممبران ہنگامے کے دوران ہی اپنے مسئلہ اٹھاتے رہے جو شور شرابے میں سنائی نہیں پڑے۔ اس طرح ہنگامے میں ہی وقفہ صفر ختم ہو گیا۔


      چیئرمین حامد انصاری نے 12 بجے وقفہ سوالات شروع کرنے کا اعلان کیا لیکن کانگریس کے ارکان کا ہنگامہ جاری رہا۔ اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے کہا کہ وقفہ سوالات کے دوران ہی تین بلوں پر بحث شروع کی جانی چاہئے۔ اراکین کے ہنگامہ جاری رہنے پر مسٹر انصاری نے ایوان کی کارروائی دوپہر ایک  بجے تک ملتوی کر دی۔ اس سے پہلے جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے کے سی تیاگی نے اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے پتھر لانے کا مسئلہ اٹھایا لیکن وہ تین منٹ میں اپنی پوری بات نہیں کہہ پائے تو ڈپٹی اسپیکر نے انہیں بیٹھ جانے کو کہا۔ اس پر تمام اپوزیشن رکن کھڑے ہو گئے اور وہ مسٹر تیاگی کو اپنی بات مکمل کرنے کے لئے وقت دینے کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن مسٹر كورين راضی نہیں ہوئے۔ اس پر اپوزیشن رکن مشتعل ہو گئے اور وہ نشست صدارت کے پاس آکر نعرے بازی کرنے لگے۔ تب مسٹر كورين نے ایوان کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کر دی۔


      مسٹر مختار عباس نقوی نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اور حکومت عدالت کے فیصلے کا احترام کرے گی۔ حکومت کا مندر کی تعمیر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، لیکن کانگریسی ممبران اس سے مطمئن نہیں ہوئے۔

      First published: