உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شری شری کے پروگرام کی تیاری میں فوج کے استعمال پر مودی حکومت گھری، پارلیمنٹ میں ہنگامہ

    نئی دہلی : دہلی کے جمنا کنارے منعقد ہونے والے شری شری روی شنکر کے پروگرام ورلڈ کلچرل فیسٹیول کی گونج آج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت اپوزین نے اسے لے کر حکومت کو گھیرا اور پوچھا کہ قانون کو بالائے طاق رکھ اسے کیوں اجازت دی گئی۔

    نئی دہلی : دہلی کے جمنا کنارے منعقد ہونے والے شری شری روی شنکر کے پروگرام ورلڈ کلچرل فیسٹیول کی گونج آج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت اپوزین نے اسے لے کر حکومت کو گھیرا اور پوچھا کہ قانون کو بالائے طاق رکھ اسے کیوں اجازت دی گئی۔

    نئی دہلی : دہلی کے جمنا کنارے منعقد ہونے والے شری شری روی شنکر کے پروگرام ورلڈ کلچرل فیسٹیول کی گونج آج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت اپوزین نے اسے لے کر حکومت کو گھیرا اور پوچھا کہ قانون کو بالائے طاق رکھ اسے کیوں اجازت دی گئی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : دہلی کے جمنا کنارے منعقد ہونے والے شری شری روی شنکر کے پروگرام ورلڈ کلچرل فیسٹیول کی گونج آج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی۔ راجیہ سبھا میں کانگریس سمیت اپوزین نے اسے لے کر حکومت کو گھیرا اور پوچھا کہ قانون کو بالائے طاق رکھ اسے کیوں اجازت دی گئی۔
      جنتا دل لیڈر شرد یادو نے راجیہ سبھا میں شری شری روی شنکر کے واقعہ کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کے لئے فوج لگا ئی گئی ہے۔ شرد یادو نے پوچھا کہ وہاں کس کی اجازت سے پروگرام ہو رہا ہے؟۔
      وہیں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی اسے لے کر حکومت پر جم کر حملہ بولا۔ آزاد نے پوچھا کہ اس کے لئے ماحولیات کے محکمہ کی منظوری کیوں نہیں لی گئی۔ فوج کی جانب سے پل کی تعمیر کیوں کی جارہی ہے؟ سیکورٹی کو لے کر کیا قدم اٹھائے گئے ہیں؟ ۔آزاد نے کہا کہ میں آرٹ آف ليونگ پروگرام کے خلاف نہیں ہوں، مگر این جی ٹی نے ہی اس پر سوالات اٹھائے ہیں۔ وزیر ماحولیات سے سوال پوچھا ہے ، کیونکہ اس نے قوانین پر عمل نہیں کیا۔ این جی ٹی نے کہا ہے کہ جمنا کے پاس تعمیر کا کام مجرمانہ ایکٹ ہے ۔ ایسے میں تعمیراتی کام کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس نے سیکورٹی کو لے کر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
      سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے بھی فوج کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا کسی ذاتی پروگرام کے لئے فوج کی مدد لی جا سکتی ہے؟ فوج نے نجی ادارے کے لئے کام کیا ۔



      اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت مختار عباس نے کہا کہ پارٹی کا پروگرام ہوگا تو بھی ہم سیکورٹی دیں گے، جہاں بھی سیکورٹی کی ضرورت ہوگی ہم دیں گے۔ شری شری کی نیت پر سوال کرنا غلط ہو گا۔ وہ ماحولیات کو لے کر کام کرتے ہیں۔ انہیں تمام اجازت دی گئی ہے۔
      لیکن حکومت کے جواب سے اپوزیشن مطمئن نہیں ہوا اور ایوان میں نعرے بازی شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن نے ایوان میں 'فوج کا غلط استعمال نہیں کے نعرے بھی لگائے۔

      First published: