உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو، اہلِ اردو اور زبان و ادب کے فروغ کے لئے قائم کئے کام کر رہے سیاسی لوگ

    فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئیرپرسن اطہر صغیر زیدی کہتےہیں کہ وہ اس ذمہ دار اور اہم منصب پر رہتے ہوئے کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس سے اہل اردو انہیں اچھی لفظوں میں یاد کرسکیں لیکن کچھ تو کمیٹی کے دستور کی مجبوریاں ہیں اور کچھ بجٹ کم ہونے کی دقتیں لیکن پھر بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

    فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئیرپرسن اطہر صغیر زیدی کہتےہیں کہ وہ اس ذمہ دار اور اہم منصب پر رہتے ہوئے کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس سے اہل اردو انہیں اچھی لفظوں میں یاد کرسکیں لیکن کچھ تو کمیٹی کے دستور کی مجبوریاں ہیں اور کچھ بجٹ کم ہونے کی دقتیں لیکن پھر بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

    فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئیرپرسن اطہر صغیر زیدی کہتےہیں کہ وہ اس ذمہ دار اور اہم منصب پر رہتے ہوئے کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس سے اہل اردو انہیں اچھی لفظوں میں یاد کرسکیں لیکن کچھ تو کمیٹی کے دستور کی مجبوریاں ہیں اور کچھ بجٹ کم ہونے کی دقتیں لیکن پھر بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

    • Share this:
    لکھنئو۔ فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کے چئرمین اطہر صغیر زیدی  عرف تورج زیدی کا ماننا ہے کہ ہم  کمیٹی کے پلیٹ فارم سے کچھ ایسا مستحکم کام کرنا چاہتے ہیں جس سے آنے والے وقت میں لوگ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کرسکیںں اور ان کاموں سے اردو اور نئی نسل کے مابین مضبوط رابطہ بنا رہے۔ یوں تو امداد  مصنفین ، مسودوں کی منظوری اور اشاعت، متیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کرنے والے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے  طلباء و طالبات کو وظائف کی تقسیم ، پی ایچ ڈی مقالوں کے لئے امداد ، مشاعروں سیمیناروں  مقاصدوں ،مسالموں ،ڈراموں اور دیگر فنونِ لطیفہ پر مبنی پروگراموں کا انعقاد ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے اوران بھی  ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جس انداز اور معیار کے مشاعرے اور سمینار گزشتہ چند برسوں میں منعقد کئے گئے کیا ان سے واقعی اردو اور اہل اردو کا بھلا ہو سکے گا؟ کیا واقعی وہ اغراض و مقاصد پورے ہو سکیں گے جن کی تکمیل کے لئے فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا ؟ چئرمین اطہر صغیر زیدی اعتراف کرتے ہیں کہ حالات اور تقاضے بدل چکے ہیں لہٰذا گھسی پٹی پرانی روش پر چل کر نہ اردو کو استحکام بخشا جاسکتا ہے اور نہ اہل اردو کی توقعات پوری کی جاسکتی ہیں لیکن دستور تبدیل کرنا بھی ہمارے اختیار میں نہیں تاہم کچھ ایسے خاکوں اور منصوبوں میں رنگ بھرنے کی کوشش ضرور کی جارہی  ہے جس سے اردو اور اہل اردو کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔

    تورج زیدی کے مطابق یوگی جی کے واضح احکامات ہیں کہ بہتر کام کیا جائے اور ہم حکومت کی توقع پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔  یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ مختلف اکادمیوں کی جانب  سے ادبی ثقافتی اور تہذیبی پروگراموں کے لئے دی جانے والی امداد کے پس منظر میں کمیشن خوری کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں ، صرف چند مخصوص لوگوں سے ہی پروگرام کرانے کی شکایات  بھی سامنے آتی رہی ہیں اور انعامات کی تقسیم میں بد عنوانیاں بھی اجاگر ہوتی رہی ہیں تاہم تورج زیدی کے مطابق انہوں نے اس باب میں سنجیدہ پیش رفت کرتے ہوئے سخت احکامات جاری کئے ہیں اور ان کے چئرمین رہتے ہوئے کسی بھی طرح کی کمیشن خوری یا کوئی غلط کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    حال ہی میں مختلف لائبریریوں کے لئے کتب کی فراہمی کو یقینی بنانے کے باب میں کام شروع کردیا گیا ہے ، ایک خاص منصوبے کے تحت اردو زبان و ادب کے سرمائےمیں اضافے کے لئے فارسی انگریزی اور ہندی زبانوں کی اچھی اور معیاری کتب کے اردو تراجم کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا جارہاہے۔ تورج زیدی کہتے ہیں کہ بجٹ کم ہے لہٰذا ہم بجٹ بڑھانے کے لئے بھی حکومت سے خصوصی درخواست کریں گے  جس سے سبھی کام ٹھیک طرح کئے جاسکیں ۔ فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی اور اتر پردیش اردو اکادمی  کے سکرٹری محمد  کلیم کے مطابق حکومت اور اکادمیوں کے ذمہداران اردو فلاح و بہبود کے لئے سنجیدہ ہیں اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ محدود وسائل میں بہتر خدمات انجام دے سکیں ۔ تورج زیدی  نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اردو ادب اور اردوصحافت سے جڑے کچھ اہم لوگوں سے بھی مشورہ کررہے ہیں جس سے کچھ ایسے کام کرائے جاسکیں جو حکومت کی شبیہہ کو بھی بہتر بنانے میں معاون ہوں اور جن کے ذریعےاردو اور اہل اردو کے مسائل بھی حل ہو سکیں ۔

    یہ بھی پڑھیں: حجاب کے بہانے القاعدہ سرغنہ ایمن الظواہری نے اگلا زہر، 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگانے والی مسکان خان کو بتایا بہن، ویڈیو جاری کرکے پڑھی کویتا
    Published by:Sana Naeem
    First published: