உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کتاب میلوں سے غائب ہوتے اردو کتابوں کے اسٹال، لکھنئو میں بھی نہیں اب پہلے جیسے شائقین

    زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اگر اہل اردو  نے حکومتوں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے فرائض ادا کئے ہوتے تو اردو زبان وادب کا منظر نامہ مختلف نظر آتا۔

    زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اگر اہل اردو نے حکومتوں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے فرائض ادا کئے ہوتے تو اردو زبان وادب کا منظر نامہ مختلف نظر آتا۔

    زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اگر اہل اردو نے حکومتوں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے فرائض ادا کئے ہوتے تو اردو زبان وادب کا منظر نامہ مختلف نظر آتا۔

    • Share this:
    لکھنئو اپنے آداب و القاب ، تہذیب و ثقافت اور علمی و ادبی پس منظر میں اردو کا اہم اور قدیم مرکز تصور کیا جاتا رہاہے لیکن اردو کی زبوں حالی کا اندازہ اب ان مراکز سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے ۔ ان دنوں علم و ادب کے اس گہوارے میں اٹھارواں قومی کتاب میلہ اپنے شباب پر ہے لیکن اس کتاب میلے میں اتر پردیش اردو اکادمی کے علاوہ اردو کتب کا کوئی دوسرا اسٹال نہیں۔ اگر لکھنئو میں لگائے گئے کتاب میلوں کے گزشتہ دس سال کا ریکارڈ دیکھئے تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہاں اردو کے دو اسٹال سے زیادہ لگے ہوں۔  قومی کونسل اور اتر پردیش اردو اکادمی کے اسٹال تو لگتے رہے ہیں لیکن دوسرے اہم ادارے اور پبلشرز یہاں کیوں نہیں پہنچتے یہ ایک اہم سوال ہے؟ اتر پردیش اردو اکادمی کے نو منتخب سکرٹری ، آئی ای ایس ، زہیر بن صغیر کے اکیڈمی میں آنے کے بعد اتر پردیش اردو اکادمی کچھ فعال ضرور ہوئی ہے اور زہیر بن صغیر کی پیش رفت سے ہی اس بار اردو اکادمی کا اسٹال اہل اردو کے ذوق و شوق کی تسکین کے لئے منظم کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کئ برس سے لکھنئو میں لگنے والی کتابی نمائش اور میلوں میں اردو اکادمی اتر پردیش کا اسٹال نہیں لگایا جارہا تھا ، زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ اگر ہم لوگ ہی اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے سنجیدہ نہیں ہوں گے تو پھر اس اہم سرمایے کا تحفظ کون کرے گا ، اہل اردو نے عملی اقدامات کرنے کے بجائے حکومتوں اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں سے منسلک لوگوں پر تنقید کرنے کو ہی اردو خدمت سے تعبیر کر لیا ہے جبکہ منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اب اکادمی کے سکرٹری ان تمام منصوبوں کاموں اور پروگراموں کو شروع کررہے ہیں جن پر ، سکرٹری و چئرمین کے نہ ہونے سے جمود طاری تھا۔کتاب میلے کے مہتمم چندیل کہتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ملک کے کئ اہم اداروں ، لائبریریوں اور پبلشرز کو باقاعدہ اسٹال لگانے کے لئے مدعو کیا تھا لیکن وہ نہیں پہنچ سکے۔

    دبے لفظوں میں چندیل یہ اظہار و اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اردو کے قارئین کی تعداد کم ہورہی ہے لوگ اس اہم زبان سے دور ہورہے ہیں ، ہم جیسے دوسری زبانوں کے پبلشرز اور اکادمیوں کو دعوت دیتے ہیں۔

    اسی طرح اردو اداروں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے لیکن کئی سال سے اردو کے جتنے اسٹال لگنے چاہیے تھے یہاں نہیں لگائے جاسکے ہیں ۔ کئ سوال و اسباب ہیں کیا اردو ریڈر شپ کم ہوگئی ہے؟ لوگوں میں مطالعے کا شوق کم ہوا ہے ؟ اردو قارئین کی قوت خرید کمزور پڑی ہے یا پھر اردو کسی ایک مخصوص طبقے کی زبان ہوکر رہ گئی ہے ؟ اہل علم ودانش کے مطابق اہل اردو کی غیر سنجیدگی اور اردو زبان کا روزگار سے منسلک نہ ہونا ہی اس کا بنیادی سبب ہے جب پرائمری اسکولوں سے ہی اردو ختم ہوجائے گی تو اردو ریڈر شپ کیسے باقی رہے گی۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ اکادمیاں ، ادارے اور پبلشرز بھی اب کتاب میلوں اور نمائشوں سے اسی لئے دور ہوتے جارہے ہیں کہ اردو کتابوں کی فروخت اتنی نہیں ہو پاتی جس سے آمد و رفت کے اخراجات نکالنے کے بعد کچھ منافع بھی ہوسکے سوال یہ بھی ہے کہ مادیت پسندی کے اس دور میں بغیر منفعت کے کون کام کرنا چاہتا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: