உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طنزومزاح کےشاعراسرارجامعی سخت علیل، دہلی سرکار نے مردہ اعلان کرکے بند کردیا ہے وظیفہ

    اسرار جامعی کو پانی پلاتے ہوئے فیروز بخت احمد۔

    اسرار جامعی کو پانی پلاتے ہوئے فیروز بخت احمد۔

    طنزو مزاح کے مشہور شاعر اسرارجامعی ان دنوں سخت علیل ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ خود سے کھانا کھانا مشکل ہوگیا ہے۔ کھانے وغیرہ کے لئے بھی دوسروں کی مدد لینی پڑ تی ہے۔

    • Share this:
      طنزو مزاح کے مشہور شاعر اسرارجامعی ان دنوں سخت علیل ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ خود سے کھانا کھانا مشکل ہوگیا ہے۔ کھانے وغیرہ کے لئے بھی دوسروں کی مدد لینی پڑ تی ہے۔ ان دنوں اسرارجامعی کا کمرہ، الماری، کچھ کتابیں، کھڑکی پررکھی کچھ دوائیاں اس وقت اسرار جامعی کا بسیرا ہیں۔

      اسرارجامعی ان دنوں جامعہ نگر کے بٹلہ ہاوس علاقے میں ایک فلیٹ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کا ایکسیڈنٹ بھی ہوگیا تھا، جس کے بعد سے ہاتھ میں فریکچرہے اورپیرمیں بھی چوٹ آئی ہے۔ وہ اس وقت چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں۔

      اسرار جامعی جو چلتے پھرتے لوگوں کو اپنے اشعار تقسیم کیا کرتے تھے۔ وہ پرچیاں اب ان کے کمرے میں پڑی ہیں۔ اب حالات یہ ہیں کہ وہ دوسروں کی مدد سے کھانا کھارہے ہیں۔ اس وقت ملاقات کرنے کے لئے اردو دنیا کے لوگ ان کے پاس پہنچ رہے ہیں۔ اسرار جامعی کچھ کو توپہچان لے رہے ہیں اور کچھ کو پہچاننے سے بھی قاصر ہیں۔

      اسرار جامعی کی عمر اس وقت تقریباً 81 سال کی ہوگئی ہے۔ سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر راجیندر پرساد، پنڈت جواہر لال نہرو، لالو پرسادیادو، شیلادکشت جیسی سیاسی شخصیتیں ان کواعزاز سے سرفراز کرچکی ہیں۔ اسرار جامعی کے لئے سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے فیروز بخت احمد کہتے ہیں کہ ار دو والوں اور مسلم کمیونٹی کو اپنے برتاو پر سوچنے کی ضرورت ہے۔

      قابل ذکر ہے کہ ایک وقت تھا کہ مشاعروں میں اسرار جامعی کو خوب بلایا جاتا تھا تو آمدنی بھی ہوجاتی تھی، لیکن اب صرف اردو اکادمی سے 5000 روپئے کی ماہانہ امداد ملتی ہے۔ دہلی حکومت کی اولڈ ایج پنشن اب اس لئے نہیں ملتی ہے کہ ان کو ریکارڈ میں مردہ بتا دیا گیا ہے۔ ہاتھ کے فریکچرمیں آپریشن کی ضرورت ہے، لیکن ابھی اس کا کچھ پتہ نہیں ہے۔  ایسے میں اسرار جامعی کی زندہ دلی برقرار ہے اور بات بات پراپنا کلام یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور طنزیہ شاعری سناتے ہیں۔

      اسرار جامعی نے شادی نہیں کی تھی اس لئے وہ اکیلے ہی رہتے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ لوگ ان کا کلام سنیں اورانہیں داد دیں، اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حالات بھلے ہی کیسے بھی ہوں، اسرار جامعی کے اندر کا شاعر پوری طرح زندہ ہے۔

       

       
      First published: