ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ملک کی مشترکہ تہذیب میں اردو زبان کی ہے بنیادی حیثیت

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ’’ اردو ادب میں ہندوستانی ثقافت ‘‘ کے عنوان سے یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

  • Share this:
ملک کی مشترکہ تہذیب میں اردو زبان کی ہے بنیادی حیثیت
ملک کی مشترکہ تہذیب میں اردو زبان کی ہے بنیادی حیثیت

الہ آباد۔ کیا اردو ایک غیر ملکی زبان ہے؟ ہندوستانی تہذیب کو پروان چڑھانے میں اردو زبان و ادب کا کیا کردار رہا ہے؟ ان سوالوں پر الہ آباد یونیورسٹی میں ہندی اور اردو کے نامور ادیبوں اور ماہر لسانیات نے مل کر غور و خوض کیا۔ ادیبوں کا متفقہ طور پر کہنا تھا کہ ’’ملک کی مشترکہ وراثت میں اردو زبان بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اردو زبان میں آپ پوری ہندوستانی تہذیب کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ہندی اور اردو زبانوں نے ہی مل کر گنگا جمنی تہذیب کو پروان چڑھایا ہے ‘‘۔


الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ’’ اردو ادب میں ہندوستانی ثقافت ‘‘ کے عنوان سے یک روزہ قومی سیمینار کا انعقادکیا گیا۔ اس سیمینار میں ہندی اور اردو کے ممتاز ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔ ادبی جلسے کی صدارت شعبہ اردو حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی کے سابق سر براہ  پروفیسر مجاور حسین نے کی۔ جبکہ دوسرے اجلاس کی صدارت ہندی کے ممتاز ادیب اور ہندوستانی اکاڈمی کے صدر ڈاکٹر اودئے پرتاپ سنگھ نے کی۔


الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ’’ اردو ادب میں ہندوستانی ثقافت ‘‘ کے عنوان سے یک روزہ قومی سیمینار کا انعقادکیا گیا۔


اس موقع پر پروفیسر مجاور حسین کا کہنا تھا کہ اردو زبان نے ہندوستان کو ایک ایسی تہذیب سے نوازا  ہے جسے ختم کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔ ہندوستانی اکاڈمی اور شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے ہونے والے اس سیمینار کی  قابل ذکر بات یہ رہی کہ سیمینار میں ارود کے ساتھ ساتھ  بڑی تعداد میں ہندی کے نامور ادیبوں نے بھی شرکت کی۔ ہندی ادیبوں کا خیال تھا کہ ملک کے تہذیبی اقدار میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلی آ رہی ہے ۔ ان کا کہنا  تھا کہ تہذیب اور ثقافت کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ دوسری زبانوں  اور رہن سہن کے اثرات قبول کرتی ہے ۔ سیمینار میں شامل ہندی اردو کے ادیبوں کا کہنا تھا کہ ملک کی تہذیب کی تشکیل میں اردو اور ہندی زبانوں کا مشترکہ کردار رہا ہے۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو قائم رکھنے کے لئے ادیبوں اور دانشوروں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔
First published: Feb 25, 2020 05:51 PM IST