உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روزگار میں اردو زبان اب مرکزیت حاصل کرچکی ہے: پروفیسر خالد محمود

    نئی دہلی۔ معروف شاعر وناقد پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ ادب کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں لیکن زبان پر ہمیں زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

    نئی دہلی۔ معروف شاعر وناقد پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ ادب کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں لیکن زبان پر ہمیں زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

    نئی دہلی۔ معروف شاعر وناقد پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ ادب کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں لیکن زبان پر ہمیں زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ معروف شاعر وناقد پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ ادب کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں لیکن زبان پر ہمیں زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے ’اردو زبان میں روزگار کے مواقع’ کے عنوان سے منعقدہ قومی سیمنار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ  اردو کے دیگر اصناف پرجس قدر زور دیا جاتا ہے اس طرح زبان کی نوک و پلک سنوارنے کے لئے توجہ نہیں دی جاتی ہے جب کہ زبان کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس موضوع کو موجودہ دور میں بہت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روزگار کے مواقع پربہت کم پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ جب کہ اس موضوع پر زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔


      سمینار کے مہمان خصوصی پروفیسر شہپر رسول نے اردو زبان میں روزگار کی ضرورت اور اہمیت پر اپنے تاثرات و تجربات بیان کئے اور موجودہ عہد کو اردو کے لیے عہد زریں سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہا کہ آج میڈیا اور صحافت میں اردو والوں کا بول بالا ہے۔ہمیں محض اردو زبان تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی اور ہندی زبان سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ تینوں زبانوں کو جاننے والا کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا۔ معروف ٹی وی صحافی جناب انجم عثمانی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی اہمیت اور شیرینی سے کسے انکار ہے، آج ہر ہندوستانی اردو بولتا اور سمجھتا ہے۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو میں اردو والے بڑی تعداد میں کام کر رہے ہیں اور اب تو ہر پروگرام میں اردو شاعری کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے، یہ اردو زبان کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ اس افتتاحی اجلاس کی نظامت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر شفیع ایوب نے کی۔سیمینار کے پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر شہزاد انجم نے کی۔


      اس اجلاس میں اردو ترجمہ نگاری، فلموں میں روزگار، ٹی وی نیوژ میں مواقع، ریڈیو اور اخبارات میں روزگار جیسے موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔ مقالہ نگاروں میں ادریس احمد خاں، سہیل احمد فاروقی، جاوید حسن، جسیم الدین اور ڈاکٹر افتخار الزماں شامل تھے۔ سماجی تنظیم پہل درشٹی(رجسٹرڈ) آزاد پور اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ، حکومت ہند کے اشتراک سے غالب اکیڈمی میں منعقد ہ اس تیسرے اجلاس میں ڈی ڈی نیوژ کے ڈائرکٹر ادریس خان نے موجودہ دور میں اردو زبان کی اہمیت اور روزگار کے مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائی میں اردو میں کئی نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے اور انٹرنیٹ کے عہد میں اردو کے لئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔


      معروف صحافی سہیل انجم نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ اردو کا روزی روٹی سے رشتہ کٹ گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں کمی ضرور آئی ہے لیکن بعض شعبے میں مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اردو اخبارات و رسائل کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ اس میں اردو داں کے لئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شاہانہ مریم شان نے کال سنٹر میں اردو میں روزگار کے مواقع ، مظہر حسنین نے انٹر نیٹ کی دنیا اور روزگار کے مواقع کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔

      First published: