உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اوڑی دہشت گردانہ حملہ : دہشت گردوں نے سیڑھی لگا کر پار کی تھی ایل او سی کی باڑ

    گزشتہ ماہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر جن چار پاکستانی دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ، انہوں نے کنٹرول لائن پر بجلی کے کرنٹ والی باڑ سیڑھی کے ذریعے پار کی تھی۔

    گزشتہ ماہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر جن چار پاکستانی دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ، انہوں نے کنٹرول لائن پر بجلی کے کرنٹ والی باڑ سیڑھی کے ذریعے پار کی تھی۔

    گزشتہ ماہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر جن چار پاکستانی دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ، انہوں نے کنٹرول لائن پر بجلی کے کرنٹ والی باڑ سیڑھی کے ذریعے پار کی تھی۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : گزشتہ ماہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر جن چار پاکستانی دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ، انہوں نے کنٹرول لائن پر بجلی کے کرنٹ والی باڑ سیڑھی کے ذریعے پار کی تھی۔ اس حملے میں 19 فوجی شہید ہو گئے تھے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج نے ان چاروں دہشت گردوں کی دراندازی کے راستے کی شناخت کے لئے جانچ کی اور وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ سلامہ آباد نالے کے پاس سیڑھیوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
      فوجی حکام نے بتایا کہ ان چاروں دہشت گردوں میں سے ایک نے سلامہ آباد نالے کے پاس باڑ میں تھوڑی سی خالی جگہ کا استعمال کرکے سرحد پار کیا اور اس نے اس طرف سے باڑ پر ایک سیڑھی لگا دی جبکہ دوسری طرف سے اس کے تین ساتھیوں نے دوسری سیڑھی لگا ئی۔ دونوں سیڑھیوں کو پیدل کراسنگ کی طرح جوڑ دیا گیا ۔ سرینگر سے تقریبا 102 کلومیٹر دور اوڑي میں ان چاروں نے فوجی کیمپ پر دیردات حملہ کیا تھا۔
      ذرائع کے مطابق باڑ میں جس تھوڑی سی کھلی جگہ سے پہلا دہشت گرد اس طرف آیا، اس سے سب کیلئے دراندازی کرنا مشکل تھا ، کیونکہ ہر ایک کے پاس بھاری مقدار میں گولہ بارود، ہتھیار اور کھانے پینے کی چیزوں والے بڑے بڑے بیگ تھے۔ انہیں اس طرح باڑ پار کرنے میں کافی وقت لگتا اور ان کی جان کو بڑا خطرہ بھی تھا ، کیونکہ ایسا کرتے وقت علاقے میں باقاعدگی سے گشت کرنے والی فوجی ٹیموں کی ان پر نظر پڑجاتی ۔
      سرکاری ذرائع کے مطابق جب چاروں دہشت گرد ہندوستان میں داخل ہوگئے ، تب انہوں نے پہلے دہشت گرد کی طرف سے لائی گئی سیڑھی اپنے دو دیگر ساتھی محمد کبیر اور بشارت کو واپس کردی ، جو ان کے ساتھ کنٹرول لائن تک آئے تھے تاکہ کسی کو کچھ پتہ نہ چلے۔ فوج گوهلان اور نزدیک کے جبلاه گاؤں میں تفتیش کر رہی ہے ، کیونکہ اسے شک ہے کہ دہشت گردوں نے 18 ستمبر کو حملہ کرنے سے ایک دن قبل گاوں میں ہی پناہ لی ہوگی۔ ان دہشت گردوں کے حملے میں 19 فوجی شہید ہو گئے تھے اور بھاری مقدار میں فوج کا ہتھیار اور گولہ بارود تباہ ہو گیا تھا ۔
      First published: