உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوٹ بندی کے فیصلہ کے بعد سے ہی کنفیوزن کا شکار رہی حکومت نے اب کئے یہ اعلانات

    نئی دہلی۔  نوٹ بندی کے مدنظر پریشان ہو رہے لوگوں کے لئے مودی حکومت نے کچھ  اعلانات کئے ہیں۔

    نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے مدنظر پریشان ہو رہے لوگوں کے لئے مودی حکومت نے کچھ اعلانات کئے ہیں۔

    نئی دہلی۔ نوٹ بندی کے مدنظر پریشان ہو رہے لوگوں کے لئے مودی حکومت نے کچھ اعلانات کئے ہیں۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  نوٹ بندی کے مدنظر پریشان ہو رہے لوگوں کے لئے مودی حکومت نے کچھ  اعلانات کئے ہیں۔ تاہم حکومت نے صاف کر دیا ہے کہ 500 اور ایک ہزار کے پرانے نوٹ اب بینکوں اور پوسٹ آفس میں نہیں بدلے جا سکیں گے لیکن ان روپیوں سے کچھ ضروری ادائیگی اب بھی کی جا سکتی ہے۔


      حکومت کا کہنا ہے کہ ایک ہزار کے نوٹ اب استعمال نہیں ہوں گے لیکن 500 روپے کے نوٹ کو 15 دسمبر تک کچھ ضروری کاموں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ مرکزی اسکولوں، ریاستوں کے سرکاری اسکولوں، میونسپل اور بلدیہ کے اسکولوں میں 2000 روپے تک کی فیس پرانے نوٹوں سے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ ایسا 15 دسمبر تک کیا جا سکتا ہے۔ میٹرو، ریلوے، سرکاری بسوں، پٹرول پمپ اور سرکاری اسپتالوں میں بھی 15 دسمبر تک پرانے نوٹ چلائے جا سکتے ہیں۔


      اسی کے ساتھ مرکزی سرکار نے نوٹ منسوخی کی وجہ سے نقدی کے مسئلہ کے مدنظر قومی شاہراہوں پر ٹول ٹیکس سے جو چھوٹ دی ہے اس کی مدت دو دسمبر تک بڑھا دی ہے۔
      سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت کے ایک سینئر افسر کے مطابق ٹول ٹیکس سے استثنی کی میعاد جمعہ دو دسمبر کی نصف شب تک بڑھاد دی ہے۔ آٹھ دسمبر کو سرکار نے 500 اور ایک ہزار کے نوٹ بند کرنے کے بعد یہ اعلان کیاتھا کہ نومبر تک ٹول ادا نہیں کرنے ہوں گے۔

      بتا دیں، اس سے پہلے حکومت نے تمام قومی شاہراہوں پر 11 نومبر تک ٹول فیس میں چھوٹ دی تھی۔ اسے دوبارہ 24 نومبر تک بڑھا دیا گیا۔ اب اس رعایت میں تیسری بار اضافہ کیا گیا ہے ۔

      First published: