ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مظفر نگر فسادات : جب جاٹوں نے بلند کی "اللہ اکبر " کی صدا اور مسلمانوں نے لگائے "ہر ہر مہادیو " کے نعرے

بالیان نے فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوئے سبھی مسلم کنبوں کے گھر جاکر جاٹوں کی طرف سے معافی مانگے کا فیصلہ کیا تھا ، جس کو اب کامیابی مل گئی ہے اور دونوں فرقے کے لوگ قریب آگئے ہیں ۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مظفر نگر فسادات : جب جاٹوں نے بلند کی
بالیان نے فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوئے سبھی مسلم کنبوں کے گھر جاکر جاٹوں کی طرف سے معافی مانگے کا فیصلہ کیاہے۔

مظفر نگر : گزشتہ سال اترپردیش اسمبلی انتخابات کے بعد مظفر نگر کے کتبہ گاوں کے وپن سنگھ بالیان نے ایک قابل تعریف فیصلہ کیا ۔ بالیان نے فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوئے سبھی مسلم کنبوں کے گھر جاکر جاٹوں کی طرف سے معافی مانگے کا فیصلہ کیا تھا ، جس کو اب کامیابی مل گئی ہے اور دونوں فرقے کے لوگ قریب آگئے ہیں ۔ اس بات کو لے کر وپن بالیان کی جم کر تعریف کی جارہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2013 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں ان کے گاوں کے 53 جاٹ بھی شامل تھے ، جن پر قتل سمیت 9 الگ الگ کیس درج ہیں ۔ 8 ستمبر 2013 کی صبح کتبہ گاوں میں فرقہ وارانہ تشدد پھیل گئی تھی ، جس میں ایک گروپ نے آٹھ مسلمانوں کا قتل کردیا تھا ، جس کے بعد مقامی مسلمانوں وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔

بالیان کے مطابق "میں نے اختر حسن کے گھر جانے کا فیصلہ کیا ، جو کتبہ کے مسلمانوں کے درمیان ایک اہمیت کا حامل شخص ہے ، میں وہاں معافی مانگنے کیلئے گیا تھا ، پہلی مرتبہ جب میں وہاں گیا تو مسلمان جمع ہوکر مجھے برا بھلا کہنے لگے اور فسادات سے وابستہ باتیں دوہرانے لگے" ۔ انہوں نے کہا کہ" جاٹوں نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا ، اس کیلئے انہوں نے مجھے ملامت کرنا شروع کردیا ، مگر میں نے نہ توکوئی رد عمل کا اظہار کیا اور نہ ہی اپنے بچاو کی کوشش کی ۔ میں نے اپنی جاٹ انا کو دروازہ پر چھوڑ دیا اور انہوں نے جو بھی کہا وہ سب کچھ خاموشی کے ساتھ سن لیا"۔

بالیان کے مطابق اختر کے ساتھ ان کی پہلی میٹنگ ناکام رہی ، لیکن انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور وہ ایک مرتبہ پھر وہاں گئے ، لیکن جب تیسری مرتبہ جانے کے بعد بھی کچھ مثبت نتیجہ نہیں نکلا تو ان کی امیدیں ٹوٹنے لگیں ، لیکن ایک دن کچھ غیر متوقع ہوگیا ۔

انہوں نے کہا کہ "تیسری میٹنگ کے بعد میں مایوس ہوکر گھر لوٹ آیا ، پھر اسی شام اختر نے مجھے فون کیا ، انہوں نے بتایا کہ کتبہ کی ایک مسلم لڑکی کو بارا بستی کے مقامی مسلم لڑکے پریشان کررہے ہیں ، انہوں نے جاٹوں سے مدد مانگی تاکہ ان لوگوں کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس پر دباو ڈالا جاسکے ، جاٹوں نے طے کیا کہ بھلے ہی وہ مسلم ہوں ، لیکن کتبہ کی بیٹی کی مدد کرنا ان کا فرض ہے ، ہم نے پولیس تھانہ کا گھیراو کیا اور ملزم کو گرفتار کرنے کیلئے ان پر دباو بھی بنایا "۔


Jaat-2
اس واقعہ نےتو جیسے معاملہ میں نئی روح پھونک دی اور بالیان کو امن عمل کے ساتھ آگے بڑھنے کا ایک موقع بھی دیدیا ۔ لیکن سب سے پہلے مسلمانوں کے اعتماد کو جیتنا سب سے اہم تھا ۔ کتبہ کے جاٹ قصور وار تھے ، لیکن کاکرا گاوں کے جاٹوں نے بھی کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے بیٹوں کو کھویا تھا ، اس لئے کتبہ کے جاٹوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پہلے مسلمانوں کے خلاف کیس واپس لیں گے۔
کاکرا کے جاٹ سوہن ویر بالیان کے مطابق ہمارے جاٹ بیٹوں کو بھی مار دیا گیا تھا ، لیکن پھر بھی ہم بارا بستی کی مہا پنچایت میں گئے تھے ، جو کہ اپنے آپ میں ایک بے نظیر کوشش تھی ۔ مہا پنچایت میں سوہن ویر نے منچ سے سبھی جاٹوں کو اللہ اکبر کا نعرہ لگانے کیلئے کہا اور پھر انہوں نے مسلمانوں سے ہر ہر مہا دیو کی صدا بلند کرنے کی درخواست کی ، وہاں موجود سبھی لوگوں کو ان کی باتوں کو مانتے ہوئے دیکھ کر سبھی حیران رہ گئے ۔

سوہن ویر نے کہا کہ "جاٹ اور مسلمان صدیوں سے دوست ہیں ، لیکن میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا ہے ، میں نے کبھی بھی جاٹوں کو اللہ اکبر اور مسلمانوں کو ہر ہر مہادیو کہتے ہوئے نہیں سنا ہے "۔
شاکر علی جو وہاں کے ایک مقامی زمیندار ہیں ، نے کہا کہ سبھی نے ہر ہر مہادیو کا نعرہ بلند کیا ۔ شاکر علی نے فخریہ انداز میں بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی کے ولیمہ کا انعقاد کیا تھا اور اس میں مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندو مہمان زیادہ تھے۔


Muzzafarnagar
مقامی چودھری کے بیٹے چین پال سنگھ شاکر علی کے ساتھ اسٹیج پر گئے اور دنوں نے اپنی اپنی برادری کی طرف سے معافی مانگی ، چین پال نے کہا کہ ہم ہاتھ جوڑتے ہیں ، غلطی تو ہماری ہی تھی ، ہمیں معاف کردیجئے ۔
رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی نے مناسب صلاح و مشورہ کے بعد اس سلسلہ میں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ کچھ دن قبل یوگی حکومت نے سیاست سے حوصلہ افزا 20 ہزار معاملوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایک دیگر کارکن کا کہنا ہے کہ سال 2014 اور پھر 2017 میں جاٹوں کو بے وقوف بنایا گیا ، انہوں نے کہا کہ جب تک جاٹ جاٹ ہے ، تب تک جاٹ کی ٹھاٹھ ہے ۔ بی جے پی نے کچھ وقت کیلئے جاٹوں کو ہندو بنا دیا تھا۔
وپن بالیا کا مزید کہنا ہے کہ ان کی یہ مہا پنچایت جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے سے ہی کتبہ ، کاکرا اور پور بلیان کے معاملات کو حل کرچکے ہیں ، اب ہم لشار ، فغانہ ، لاکھ ، محمد پور رائے سنگھ اور کول گاوں کے جاٹوں اور مسلمانوں کیلئے اسے جاری رکھیں گے ۔ جاٹ اور مسلمان ایک مرتبہ پھر متحد ہیں ۔ بابا ٹکیت ( مہندر سنگھ ٹکیت ) کے دن واپس آرہے ہیں۔


نیوز 18 کیلئے ادے سنگھ رانا

First published: Feb 09, 2018 04:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading