உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : چار مہینے بعد تبلیغی جماعت سے وابستہ دو افراد کی رہائی کا ضلع عدالت نے دیا حکم

    تبلیغی جماعت سے وابستہ سات افراد کی رہائی

    تبلیغی جماعت سے وابستہ سات افراد کی رہائی

    تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے کیرالہ کے اشرف پی کے اور مغربی بنگال کے شہزان علی کو گذشتہ 21 اپریل کو ان کے 30 ساتھیوں کے ساتھ الہ آباد کے تبلیغی مرکز اور مسلم مسافر خانے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔

    • Share this:
    کورونا وائرس پھیلانے کے الزام میں تقریباً چار مہینے تک جیل میں بند رہنے کے بعد تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو کارکنان کو الہ آباد کی ضلع عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے کیرالہ کے اشرف پی کے اور مغربی بنگال کے شہزان علی کو گذشتہ 21 اپریل کو ان کے  30 ساتھیوں کے ساتھ  الہ آباد کے تبلیغی مرکز اور مسلم مسافر خانے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ گرفتار شدہ 30 جماعتیوں میں 16 کارکنان کا تعلق بیرون ملک سے بتایا گیا تھا ۔ تبلیغی مرکز سے  گرفتار ہونے والے  کارکنان پر مقامی پولیس نے کورونا وائرس پھیلانے اور عالمی وبا کی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ۔ گرفتار تبلیغی جماعت کے کچھ کارکنان کی ضمانت ہو گئی ہے ، جبکہ  بیشتر کارکنان ابھی بھی نینی سینٹرل جیل میں بند ہیں ۔

    الہ آباد کے تبلیغی مرکز سے گرفتار ہونے والے جماعت کے کارکنان  اس وقت اپنی رہائی کے لئے  سخت قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ پولیس نے گرفتار ہونے والے تمام  تبلیغیوں کے خلاف عدالت میں  چارج  شیٹ داخل  کر دی ہے ۔ گرچہ الہ آباد پولیس نے گذشتہ یکم اپریل کو مقامی تبلیغی مرکز سے 30 افراد کو گرفتار کیا تھا ۔ تاہم عدالت میں ان کی گرفتاری 21 اپریل کو دکھائی گئی ہے ۔ گرفتار ہونے والے کارکنان میں سے 16 افراد کا تعلق بیرون ملک سے ہے ۔ غیر ملکیوں کا تعلق ملیشیا ، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سے بتایا جا رہا ہے ۔

    تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو کارکنان کو الہ آباد کی ضلع عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔
    تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے دو کارکنان کو الہ آباد کی ضلع عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا ہے ۔


    پولیس نے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف شہر کے دو پولیس تھانوں میں ایف آئی آر درج کرائی ہے ۔ پو لیس نے غیر ملکیوں کے خلاف پینڈیمک ایکٹ کی مختلف دفعات کے علاوہ  فارنرس ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کرایا ہے ۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ جن افراد کو جیل بھیجا گیا تھا ، ان میں الہ آباد یونیورسٹی کے پروفیسر محمد شاہد کا بھی نام شامل ہے ۔ پروفیسر محمد شاہد کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا ۔ گرفتاری کے بعد  تبلیغی جماعت کے کارکنان کو شہر کے مسلم اکثریتی علاقے میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس میں کورنٹین کیا گیا تھا ۔ ان افراد کو عدالت نہ لے جاکر شہر کے خلد آباد تھانے میں سماعت کی گئی تھی اور پولیس اسٹیشن سے ہی ان  سب کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

    تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد  کے خلاف پینڈیمک ایکٹ اور فارنرس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت پولیس نے مقدمہ درج کرایا تھا ۔ گرفتار کئے گئے لوگوں میں 16 غیر ملکی بھی شامل تھے ۔ محکمہ صحت اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے تین بار جانچ کے بعد بھی تمام افراد کی کورونا رپورٹ نگیٹیو آئی تھی ۔ ان میں ایک غیر ملکی  نوجوان کو طبی جانچ میں کورونا پازیٹیو پایا گیا تھا ۔ لیکن حمتی رپورٹ منفی آنے کے بعد اس کو بھی پوری طرح سے صحت مند قراردے دیا گیا تھا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: