ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اتر پردیش: وسیم رضوی کے بعد کیا زفر فاروقی کی جانچ بھی سی بی آئی کرے گی؟

شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے خلاف سی بی آئی جانچ کرانے کے اعلان کے بعد سنی سینٹرل وقف بورڈ میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی جانچ بھی سی بی آئی سے کرانے کے مطالبے میں تیزی آ گئی ہے۔ وسیم رضوی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے والے وقف کارکن شبیر شوکت عابدی نے حکومت سے سنی سیٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی کے خلاف بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

  • Share this:
اتر پردیش: وسیم رضوی کے بعد کیا زفر فاروقی کی جانچ بھی سی بی آئی کرے گی؟
وسیم رضوی پرالہ آباد کا تاریخی امام باڑہ’’ مرزا غلام حیدر ‘‘کو منہدم کرنے اور اس پرغیر قانونی طریقے سے شاپنگ کامپلکس تعمیر کرنے کا الزام ہے۔

الہ آباد۔ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے خلاف سی بی آئی جانچ  کرانے  کے اعلان کے بعد سنی سینٹرل وقف بورڈ میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی جانچ  بھی سی بی آئی سے کرانے کے مطالبے میں تیزی آ گئی ہے۔ وسیم رضوی کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے والے  وقف کارکن شبیر شوکت عابدی نے حکومت سے سنی سیٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی کے خلاف بھی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ شبیر شوکت عابدی  کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کے حکم پر سینٹرل وقف کونسل نے شیعہ اور سنی وقف بورڈ میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی جانچ کی تھی۔ سینٹرل وقف کونسل نے سنی وقف بورڈ میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی رپورٹ حکومت کو پیش کردی تھی۔ لیکن سینٹرل وقف کونسل کی سفارشات کے باوجود حکومت نے سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین زفر فاروقی کے خلاف ابھی تک  کوئی کار روائی نہیں کی ہے۔


واضح رہے کہ وسیم رضوی پرالہ آباد کا تاریخی امام باڑہ’’ مرزا غلام حیدر ‘‘کو منہدم کرنے اور اس پرغیر قانونی طریقے سے شاپنگ کامپلکس تعمیر کرنے کا الزام ہے۔  ۲۶؍ اگست ۲۰۱۶ کو الہ آباد کی کوتوالی میں وسیم رضوی اور امام باڑہ مرزا غلام حیدر  کے متولی وقار رضوی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ ایف آئی آرمیں امام باڑہ مرزا غلام حیدر کو غیر قانونی طریقے سے  منہدم کرنے اوراس پر شاپنگ کامپلکس تعمیر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔


امام باڑے کو منہدم کئے جانے کے خلاف شہر کے شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ امام باڑے کے انہدام کے خلاف سماجی کارکن شبیرشوکت عابدی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ امام باڑہ کے انہدام کی شکایت مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے بھی کی گئی تھی۔ پی ایم او نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اس کی جانچ  سینٹرل  وقف کونسل کو سونپ دی تھی۔


سینٹرل وقف کونسل نے اپنی جانچ رپورٹ میں شیعہ اور سنی وقف بورڈوں میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانیوں کا انکشاف کیا تھا۔ سینٹرل وقف کونسل نے شیعہ اور سنی وقف بورڈوں میں پائی جانے والی سنگین قسم کی بدعنوانیوں کے خلاف حکومت سے  کارروائی کرنے کی پرزور سفارش کی تھی۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 23, 2020 05:58 PM IST