உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آگرہ کے اسپتال میں بھیانک آگ، آرپیٹر اور اس کے بیٹے۔بیٹی کی موت، تین مریضوں کی حالت سنگین

    حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی، جن میں اسپتال کے آپریٹر، ان کی بیٹی اور بیٹا شامل ہیں۔ سب کی دم گھٹنے سے موت ہوئی۔ اسی دوران آگ لگنے سے اسپتال کے اندر دھواں پھیل گیا جس سے مریضوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

    حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی، جن میں اسپتال کے آپریٹر، ان کی بیٹی اور بیٹا شامل ہیں۔ سب کی دم گھٹنے سے موت ہوئی۔ اسی دوران آگ لگنے سے اسپتال کے اندر دھواں پھیل گیا جس سے مریضوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

    حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی، جن میں اسپتال کے آپریٹر، ان کی بیٹی اور بیٹا شامل ہیں۔ سب کی دم گھٹنے سے موت ہوئی۔ اسی دوران آگ لگنے سے اسپتال کے اندر دھواں پھیل گیا جس سے مریضوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Agra, India
    • Share this:
      تاج نگری آگرہ کے شاہ گنج علاقے میں واقع آر مادھوراج اسپتال میں بدھ کی صبح زبردست آگ لگ گئی۔ حادثے میں تین افراد کی موت ہو گئی، جن میں اسپتال کے آپریٹر، ان کی بیٹی اور بیٹا شامل ہیں۔ سب کی دم گھٹنے سے موت ہوئی۔ اسی دوران آگ لگنے سے اسپتال کے اندر دھواں پھیل گیا جس سے مریضوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

      موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت اسپتال میں 7 مریض داخل تھے جنہیں فائر بریگیڈ کے عملے نے باہر نکالا۔ بتایا جا رہا ہے کہ تین مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جن کا علاج جاری ہے۔ بتادیں کہ اسپتال گراؤنڈ فلور پر ہے جبکہ آپریٹر ڈاکٹر راجن پہلی منزل پر اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔

      خطرے میں انسانوں کی نوکری! یہان ریسٹورینٹ میں روبوٹ نے دکھایا کمائی بڑھانے والا کارنامہ

       

      مسلم شخص محمد نثار نے اپنایا سناتن دھرم، ویدک رسم و رواج سے پھر سے کی شادی، بتائی یہ وجہ

      شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی آگ
      آگ صبح 5 بجے کے قریب لگی جس کے بعد دھواں بھر گیا۔ موقع پر چیخ و پکار مچ گئی۔ اطلاع کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر تین لوگوں کو بچا لیا لیکن ڈاکٹر راجن کے اہل خانہ پہلی منزل پر پھنس گئے۔ اس حادثے میں ڈاکٹر راجن، ان کی 15 سالہ بیٹی شالو اور بیٹا رشی شدید طور پر جھلس گئے اور ان کی موت ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ پہلی منزل سے لگی اور آہستہ آہستہ پوری عمارت میں پھیل گئی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: