ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سادھو سنتوں نے کیا پوجا ہون

روشن باغ احتجاجی دھرنے میں ہونے والے ہون میں بڑی تعداد میں سادھو سنتوں نے  شرکت کی ۔اس ہون کے ذریعے کے دعا کی گئی کہ مرکزی حکومت کو عوام کے جذبات اور مطالبات کو سمجھنے کی توفیق ملے۔ اس موقع پر احتجاجی سادھو سنتوں نے نہ صرف شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف اپنی آواز بلند کی بلکہ حکومت سے اس قانون کو فوری طور سے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سادھو سنتوں نے کیا پوجا ہون
روشن باغ احتجاجی دھرنے میں ہونے والے ہون میں بڑی تعداد میں سادھو سنتوں نے  شرکت کی ۔اس ہون کے ذریعے کے دعا کی گئی کہ مرکزی حکومت کو عوام کے جذبات اور مطالبات کو سمجھنے کی توفیق ملے۔ اس موقع پر احتجاجی سادھو سنتوں نے نہ صرف شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف اپنی آواز بلند کی بلکہ حکومت سے اس قانون کو فوری طور سے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

شہریت قانون کے خلاف الہ آباد کا روشن باغ  کا احتجاج صلح کل اور مذہبی ہم آہنگی کا ایک مثال بن چکا ہے ۔گرچے اس احتجاجی دھرنے میں ہر وقت شہریت قانون مخالف نعروں اور تقریروں  کی گونج تو سنائی  دے رہی ۔تاہم  اس کے ساتھ ہی ساتھ نماز واذکار  اور پوجا ہون کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ احتجاج میں شامل خواتین کا کہنا ہے کہ شہریت قانون ملک کے عوام کے خلاف ہے ایسے میں تمام مذاہب کے افراد اپنے عقیدے کے مطابق اس قانون کے خاتمے کے لئے خدا کے حضور دعا گو ہیں۔ کل مذاہب دعائیہ تقریبات نے دھرنے کے  ماحول  میں  ایک طرح کی رو حانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

یوں تو الہ آباد اپنی گنگا جمنی تہذیب کے  لئے  پوری دنیا میں ایک علامت کے طور پر مشہور ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ہر چیز  پر  ملک کی مشترکہ  تہذیب کا عکس نظر آتا ہے۔ شہر کا روشن  باغ اس وقت شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف سراپا احتجاج بناہوا ہے ۔یہ احتجاج اب مذہبی ایکتا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک روشن  مثال  بھی بن چکا ہے ۔احتجاجی دھرنے میں شامل مسلم خواتین جہاں ایک طرف نماز واذکار  میں مشغول ہیں۔

وہیں دوسری جانب شہر کے سادھوں سنتوں کی طرف سے ہون پوجا بھی   کی جا رہی ۔اس وقت روشن باغ احتجاجی دھرنے میں ہرمذہب  کے افراد مل کر شہریت قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں  ۔احتجاجی دھرنا پوری طرح خواتین کے کنٹرول میں ہے ۔ان خواتین کا کہنا ہے کہ شہریت  ترمیمی قانون ملک کے تمام باشندوں کے خلاف ہے ایسے میں سبھی فرقوں کے افراد کو مل کر اس سیاہ  قانون کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔

روشن باغ احتجاجی دھرنے میں ہونے والے ہون میں بڑی تعداد میں سادھو سنتوں نے  شرکت کی ۔اس ہون کے ذریعے کے دعا کی گئی کہ مرکزی حکومت کو عوام کے جذبات اور مطالبات کو سمجھنے کی توفیق ملے۔ اس موقع پر احتجاجی سادھو سنتوں نے نہ صرف شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف اپنی آواز بلند کی بلکہ حکومت سے اس قانون کو فوری طور سے واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

First published: Jan 21, 2020 06:55 PM IST