உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسجد میں اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر لگانے کی اجازت دینے سے ہائی کورٹ کا انکار

    الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے ایک معاملے میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہب میں پوجا۔ارچنا کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا ذکر نہیں ہے۔ کوئی بھی مذہب یہ حکم نہیں دیتا کہ تیز آواز والے آلات سے ہی دعا کی جائے۔

    الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے ایک معاملے میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہب میں پوجا۔ارچنا کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا ذکر نہیں ہے۔ کوئی بھی مذہب یہ حکم نہیں دیتا کہ تیز آواز والے آلات سے ہی دعا کی جائے۔

    الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے ایک معاملے میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہب میں پوجا۔ارچنا کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا ذکر نہیں ہے۔ کوئی بھی مذہب یہ حکم نہیں دیتا کہ تیز آواز والے آلات سے ہی دعا کی جائے۔

    • Share this:
    الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے ایک معاملے میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہب میں پوجا۔ارچنا کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا ذکر نہیں ہے۔ کوئی بھی مذہب یہ حکم نہیں دیتا کہ تیز آواز والے آلات سے ہی دعا کی جائے۔ لاؤڈ اسپیکر پر اگر روک ہٹا لی گئی تو علاقے میں عدم توازن (Imbalance)پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کورٹ نے جونپور (Jaunpur) ضلع کے شاہ گنج (Shahganj) بدوپور گاؤں میں دو مسجدوں میں اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کیلئے داخل کی گئی عرضی خارج کردی۔

    کورٹ نےکہا کہ ضلع انتظامیہ کے فیصلے پر روک لگانا ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس پنکج متال اور جسٹس وی سی دکشت کی بنچ نے جونپور کے مسرور احمد کے ذریعے داخل کی گئی عرضی خارج کردی۔
    عرضی گزار نے ان دو مسجدوں پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ جونپور کے شاہ گنج کے ایس ڈی ایم نے 12 جون کو اس بنیاد پر لاؤڈ اسپیکر کی اجازت دینے سے منع کردیا تھا کہ اس سے گاؤں کے دو مذہبی گروہ کے درمیان بد نظمی پیداہوگی اور اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے کیونکہ اس علاقے میں ملی۔جلی آبادی ہے۔

     
    First published: