ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی اسمبلی انتخابات : کیا مہنگائی سے بجھتے چولہوں اور مہنگی بجلی سے اندھیرے میں ڈوبے گھروں کی ہوگی تشہیر ؟

سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار یہ اظہار کررہے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کی موجودہ پیش رفت یہ اشارے کررہی ہے کہ اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی الیکشن بھی عوامی مسائل پر نہیں بلکہ سیاسی الزام تراشی اور دیگر ایسے موضوعات پر لڑا جائے گا ، جن کا عوام سے کم اور سیاسی جماعتوں کی اپنے مفاد سے زیادہ تعلق ہے ۔

  • Share this:
یوپی اسمبلی انتخابات : کیا مہنگائی سے بجھتے چولہوں اور مہنگی بجلی سے اندھیرے میں ڈوبے گھروں کی ہوگی تشہیر ؟
یوپی اسمبلی انتخابات : کیا مہنگائی سے بجھتے چولہوں اور مہنگی بجلی سے اندھیرے میں ڈوبے گھروں کی ہوگی تشہیر ؟

لکھنئو : اترپردیش میں برسر اقتدار بی جے پی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ ، آنے والے اسمبلی الیکشن کے پیش نظر ، ان کارناموں کی تشہیر کریں گے جو بی جے پی نے گزشتہ چار سال کے دوران کئے ہیں اور اس مقصد کے لئے یوگی حکومت کی جانب سے ممبران کو  کتابچوں اور اشتہاروں کی شکل میں تشہیری مواد بھی فراہم کیا جارہا ہے ، جس کے مطالعہ اور مشاہدے سے لوگ بی جے پی کے غیر معمولی کارناموں سے واقف ہوسکیں گے ۔ حالانکہ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران اترپردیش کے لوگ کیسے حالات سے دوچار رہے ہیں ، انہوں نے کتنی مصیبتیں جھیلی ہیں اور انہیں کتنی سہولتیں ملی ہیں ۔


بی جے پی کے مطابق یوگی جی کے دورِ اقتدار میں ریاست نے غیر معمولی ترقی کی ہے،  وکاس کا اجالا گھر گھر پہنچا ہے ، لوگوں کو اتنی سہولیات دی گئی ہیں کہ وہ جے مودی اور جے یوگی کے نعرے لگا رہے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ بھی بی جے پی کے لیڈر اور بھکت کہہ رہے ہیں ، جو کچھ بھی تشہیری کتابچوں میں تحریر کیا جارہا ہے کیا وہ سب صحیح ہے ؟ کیا اس سچائی کے ساتھ بی جے پی کے عوامی نمائندے عوام کا سامنا کر سکیں گے۔؟


بی جے ہی کی اس پیش رفت پر حزب اختلاف اور سیاسی مبصرین نے جو رد عمل ظاہر کیا ہے ، وہ قابل غور بھی ہے اور چونکانے والا بھی ہے ۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا بی جے پی یہ بتائے گی کہ گیس سلینڈر مہنگے ہونے کے سبب کتنے غریب لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے اور کتنے گھروں کے چولہے بجھے ہیں ؟ کیا بی جے پی کے پارلیمانی ممبران  لوگوں کو یہ بتائیں گے کہ بجلی مہنگی ہونے سے کتنے گھر اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں ؟ کیا وہ یہ بتائیں گے کہ روزگار چلے جانے کے سبب کتنے کنبوں کو غریبی اور بھوک کا شکار ہونا پڑا ہے؟


صرف سماج وادی پارٹی ہی نہیں بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی بی جے پی کی اس پیش رفت پر سخت تنقید کی جارہی ہے ۔ مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ کتابوں میں چھاپنے اور تشہیر کرنے سے نہ جھوٹ کو سچ میں بدلا جاسکتا ہے اور نہ حقیقت اور سچائی کی پردہ پوشی کی جاسکتی ہے ۔ جب بی جے پی کے نمائندے دیہات و مضافات میں پہنچیں گے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹ اور سچ میں کیا فرق ہے ۔ ڈاکٹر متین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عوام غصے میں ہیں اور ممکن ہے کہ کئی مقامات پر بے جے پی لیڈران کو ایسی مزاحمت اور ذلت کا سامنا کرنا پڑے جس کی توقع بھی انہوں نے نہیں کی ہوگی ۔

سیاسی رہنماؤں کی بیان بازیاں اپنی جگہ ہیں ، لیکن سیاسی تجزیہ نگار اور سیاسی مبصرین جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بھی کم اہم نہیں ہے ۔ معروف سیاسی تجزیہ کار انو بھوچک کہتے ہیں کہ صاف اشارے مل رہے ہیں کہ آنے والا الیکشن بھی حقیقی اور عوامی مسائل و موضوعات پر نہیں بلکہ سیاسی الزام تراشی اور دیگر ایسے موضوعات پر لڑا جائے گا ، جن کا عوام سے کم اور سیاسی جماعتوں کی اپنے مفاد سے زیادہ تعلق ہے ۔ انو بھوچک کہتے ہیں کہ چاہے سماج وادی پارٹی ہو یا بہوجن سماج پارٹی اور دوسری جماعتیں سب اپنے اپنے ووٹ بنک کو جوڑنے اور سماج کو توڑنے کےلئے  کام کررہی ہیں ۔

انوبھوچک کے مطابق بی ایس پی کے نزدیک دلتوں اور پچھڑوں پر تو اس کا حق ہے ہی اب براہمن سماج کو بھی لبھانے اور ساتھ لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ سماج وادی پارٹی بھی اپنے ووٹ بنک کو برقرار رکھنے کے کئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور خود کو اتر پردیش کے اقتدار کا سب سے بڑا دعویدار تصور کرتی ہے ، چک یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹیوں کی اس منفی سیاست سے جیت کسی کی بھی ہو لیکن عوام کی ہار ہوجائیں گے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ہار میں وہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی اہم کردار ادا کریں گی ، جو خود بھلے ہی نہ جیت پائیں لیکن ووٹ بنک کی تقسیم کو یقینی بناکر کسی مخصوص جماعت کو جتانے میں کارگر ضرور ثابت ہوتی ہیں اور اس حوالے سے اس بار اویسی کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کو نظر انداز نہیں کیا سکتا  ۔ انو بھو چک کے مطابق کل کیا ہوگا یہ آنے والا وقت بتائے گا  ، لیکن فی الوقت سیاست نے جو رخ اختیار کیا ہے اس سے مثبت سیاست میں یقین رکھنے والے لوگوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 30, 2021 10:23 PM IST