உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم پرسنل لاء بورڈ ، سیاست اور جمہوریت

    مسلم پرسنل لاء بورڈ ، سیاست اور جمہوریت ۔ علامتی تصویر ۔

    مسلم پرسنل لاء بورڈ کی سیاسی اپروچ پر سوال اٹھانے والے لوگوں نے یا تو بورڈ کے دستور کو نہیں پڑھا ہے یا وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔

    • Share this:
    اتر پردیش کے آئندہ  اسمبلی الیکشن کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ اقتدار کی دوڑ میں شامل تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے منصوبوں اور خاکوں کے مطابق تگ و دو شروع کردی ہے۔ ایک بار پھر مسلم ووٹ بنک کی اہمیت  کے پیش نظر  ارباب سیاست کی نگاہیں ان علماء کرام دانشوروں اور اہم تنظیموں کی جانب مرکوز ہو رہی ہیں ، جن کو مسلمانوں کا رہنما مسیحا یا ہمدرد  تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ اس لئے ارباب سیاست اور ملت کے ذمہ دار لوگوں کی نگاہیں مسلمانوں کی سب سے اہم اور بڑی تنظیم مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب مرکوز ہوئی ہیں اور اسد الدین اویسی کی بورڈ میں شمولیت اور بورڈ  کے ذمہ داران سے ان کے مستحکم روابط و تعلقات کی بنیاد پر یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ پرسنل لا بورڈ کی جانب سے مسلم ووٹروں سے آل انڈیا مجلس اتحا د المسلمین کی حمایت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بورڈ کے قیام سے آج تک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نہ کسی سیاسی جماعت کے تعاون کا اعلان کیا ہے اور نہ مستقبل میں ایسا کئے جانے کے امکانات ہیں ۔

    اس باب میں بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی کے وضاحتی بیان کے مطابق سیاست اور کسی سیاسی جماعت سے بورڈ کا کوئی سر و کار نہیں ، یہ لوگوں کی خام خیالی ہے کہ بورڈ کی جانب سے کسی مخصوص سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کی حمایت کا اعلان کیا جائے گا۔ جو لوگ بورڈ کے دستور ، دائرہ کار اور دائرہِ اختیار سے واقف ہیں وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور سیاست کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ بورڈ کے دستور میں اس کی گنجائش نہیں ۔ ووٹ کسے دینا ہے ، کیوں دینا ہے ، یہ کسی بھی شہری کا بنیادی دستوری و جمہوری حق ہے اور اسے اپنے حق کا استعمال اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ملک و ملت کی ترقی و بہتری کے لئے اپنی مرضی اور اپنے شعور سے کرنا چاہئے۔ اس میں بورڈ کی مداخلت بے معنی اور غیر ضروری ہے ۔

    معروف عالم دین آور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مجلس عاملہ کے رکن مولانا خالد رشید کہتے ہیں بورڈ کے سبھی ذمہ داران اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھتے ہیں اور با شعور لوگ واقف ہیں کہ بورڈ کا کام مسلمانوں کے شرعی حقوق کا تحفظ کرنا ہے ، کسی سیاسی جماعت کو جتانا یا ہرانا نہیں ۔۔

    اس کے برعکس آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ ( قدیم ) کے بانی مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ شیعہ پرسنل لا بورڈ قوم و ملت کے بیشتر مشترکہ مسائل و معاملات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز میں آواز ملاتا رہا ہے اور تائید کرتا رہا ہے ۔ تاہم شیعہ پرسنل لا بورڈ سیاسی طور پر بھی فعال رہاہے اور ابھی ہم یہ غور کررہے ہیں کہ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن میں کس جماعت کا تعاون کیا جائے اور کیوں کیا جائے ۔

    یہاں یہ بات اہم ہے کہ اسد الدین اویسی آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے فعال و سرگرم کارکن ہیں ، جس کا کچھ فائدہ انہیں ضرور مل سکتا ہے ۔ تاہم بورڈ کی جانب سے ابھی تک نہ کوئی ایسا بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ  مستقبل میں اس کی توقع ہے ۔ لہٰذا جو سیاسی اور غیر سیاسی لوگ اس اندا کی افواہوں کو پھیلا کر بورڈ کے تعلق سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، انہیں چاہئے کہ وہ ایک بار بورڈ کا دستور پڑھیں اور اس کی ماضی کی تاریخ پر بھی غور کریں۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: