ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش اسمبلی انتخابات : عوامی مسائل اور سیاسی جماعتوں کے مقاصد

سیاسی جماعتوں کی پیش رفت سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی سیاسی جماعت سنجیدہ نہیں ہے ۔ رنگ و نسل اور نفاذ و نفرت کی سیاست کے لیے عوام کے مسائل صرف بیان بازیوں کی حد تک اہم ہیں ۔

  • Share this:
اترپردیش اسمبلی انتخابات : عوامی مسائل اور سیاسی جماعتوں کے مقاصد
اترپردیش اسمبلی انتخابات : عوامی مسائل اور سیاسی جماعتوں کے مقاصد

لکھنو: جیسے جیسے آئندہ اسمبلی الیکشن کی آہٹیں اور دستکیں تیز ہو رہی ہیں ویسے ہی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی  مقاصد اور مفاد کے پیش نظر سامنے آنے لگی ہیں ۔ چھوٹی بڑی پارٹیوں کے لیڈر اتر پردیش کی راجدھانی کا رخ کرکے یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کس سیاسی جماعت کے تعاون کے اعلان سے کتنی قیمت طے ہو سکتی ہے ۔ کچھ نام نہاد علماء بھی سرکاری درباروں میں اپنی دستاروں کی اونچائیوں سے سیاسی مول تول کا اندازہ لگا رہے ہیں ۔ کہا جا سکتا ہے کہ اتر پردیش پر سیاست کے رنگ اس طرح چڑھ گئے ہیں کہ دوسرے تمام رنگ پھیکے اور ہلکے نظر آتے ہیں ۔ وہ لکھنئو جو کبھی ادب و آداب ، القاب تہذیب و ثقافت علم و عرفان زبان و لسان نفاست و شائستگی اور لطافت و ظرافت کے لئے مشہور تھا ، آج اپنے حال پر آنسو بہاتا نظر آتا ہے ۔ حالانکہ ابتدا سے ہی انسان نے کچھ رنگوں کو مذہبی رنگ دے کر انہیں ہندو مسلمان اور سکھ عیسائی بنا دیا لیکن رنگوں کی اس سیاست میں جو کھیل سیاست نے کھیلا ہے اس کی  خرابی یہ ہے کہ انسانیت اور بھائی چارے کے رنگ پوری طرح غائب ہو گئے ہیں ۔


یوں تو گزشتہ کئی سال سے بھگوا رنگ کی اجارہ داری نے صرف سرکاری عمارتوں اور رہائش گاہوں کو ہی زد میں نہیں لیا بلکہ ایک وزیر نے تو اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے حج ہاؤس اور کئی اور اہم عمارتوں کو بھی بھگوا رنگ میں رنگ کر  اپنی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جس انداز سے سماج وادی پارٹی کی ٹوپیوں کے رنگوں کے بنیاد پر سماج وادی پارٹی پر سیاسی طنز کیا اس کو لے کر سیاست کے رنگ اتنے تیز ہوئے کہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کئی سال بعد اپنے مخصوص رنگ کی ٹوپی میں ٹویٹ کرتے نظر آئے ۔


بات چاہے مسلم لیگ کی ہو ، سماج وادی پارٹی کی ، بی ایس پی کی یا پھر کانگریس اور بی جے پی کی ۔ سب کو اپنے پرچم اپنے رنگ اور  ان رنگوں میں رنگتے لوگ اور عمارتیں اچھی لگتی ہیں ، لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ رنگوں کی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کو انسانیت کے رنگ کی کوئی پروا نہیں ۔ غریبی اور مہنگائی کا رنگ کتنا گہرا ہو چکا ہے کسی کو احساس نہیں ۔ فرقہ پرستی کے رنگ میں ڈوبتے لوگ کیوں حیوان ہو رہے ہیں کسی کو فکر نہیں ۔


معروف سماجی کارکن اور سیاسی لیڈر صلاح الدین کہتے ہیں کہ  فی الحال بر سر اقتدار پارٹی کا رنگ بھگوا ضرور ہے ، لیکن ان کے لیڈروں اور اراکین کو فرقہ پرستی ، نفرت ، تعصب اور دلتوں و پسماندہ لوگوں کی تباہی اور بربادی کے رنگ سب سے زیادہ پسند بھی ہیں اور راس بھی آتے ہیں ۔ حالانکہ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کے دور اقتدار میں بھی پورا شہر نیلا نظر آتا تھا ۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ مایاوتی کے راج میں اتر پردیش کے لوگ آئین و قانون کے اعتبار سے محفوظ فضا میں سانس لے رہے تھے ۔ ساتھ ہی مذہبی منافرت کا سلسلہ بھی اس طرح دراز نہیں تھا ، جیسا کہ اب نظر آتا ہے ۔

کانگریس کے سریندر راجپوت کہتے ہیں کہ بھگوا رنگ تو صرف بدنام ہے ، اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی پہلی پسند تعصب ، نفرت ، مہنگائی اور بدعنوانی کا وہ رنگ ہے جو ملک اور ملک کے لوگوں کو برباد کئے دے رہا ہے ۔ سرحد کے جوانوں سے کسانوں تک اور مزدوروں لاچاروں سے بے روزگاروں تک ہر سماج ، ہر مذہب اور ہر طبقہ کے لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے بدحال ہیں ، لیکن حکومت ہے کہ منمانی کرنے پر بضد ہے ۔

مسلم لیگ کے ڈاکٹر متین کے مطابق لوگ پوری طرح موجودہ نظام سے بدظن اور بے حال ہیں اور امن و سکون کی زندگی کی تلاش میں اپنی قدیم پارٹی کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں ، جو فی الوقت اتر پردیش میں اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ سلام الدین مسّن کہتے ہیں کہ پریشان لوگ ایک بار پھر بہوجن سماج پارٹی کے اسی نظام کو یاد کررہے ہیں جس میں دلتوں مسلمانوں پسماندہ برادریوں اور ہر طبقے اور ذات کے لوگوں کے ساتھ انصاف بھی کیا جارہا تھا اور بابا بھیم راو امبیڈکر کے اصولوں اور ضابطوں کی روشنی میں ملک کی جمہوری و دستوری قدروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جارہا تھا ۔

سب جماعتوں کے اپنے دعوے اور اپنی دلیلیں ہیں ، لیکن سچائی صرف اس آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے ، جس میں فی الحال غربت ، مہنگائی ، بے روز گاری اور بھکمری  کے عکس صاف نظر آرہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 02, 2021 06:44 PM IST