உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh Assembly Elections : کورونا اور اومیکران کے سائے میں سیاسی حکمتِ عملی

    Uttar Pradesh Assembly Elections : کورونا اور اومیکران کے سائے میں سیاسی حکمتِ عملی

    Uttar Pradesh Assembly Elections : کورونا اور اومیکران کے سائے میں سیاسی حکمتِ عملی

    Uttar Pradesh Assembly Elections 2022 : کورونا اور اومیکران کے بڑھتے خدشات اور خطروں نے عام آدمی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے ۔ عوامی تحفظ کے پیش نظر الیکشن کمیشن کے مشورے پر سنجیدہ فور وخوص کی ضرورت ہے ۔

    • Share this:
    لکھنئو : ریاست اترپردیش (Uttar Pradesh) کے مختلف شہروں میں کورونا اور اومیکران (Omicron) کے بڑھتے معاملات ، ہائی کورٹ کا وزیر اعظم کو الیکشن (Uttar Pradesh Assembly Elections 2022) ملتوی کرنے کا مشورہ ، مسلسل ہورہے سیاسی پروگرام ، ریلیاں اور یاترائیں اور الیکشن کمیشن کا اس تناظر میں حالیہ جائزہ نئی سمت میں اشارے کر رہا ہے ۔ اس تعلق سے حتمی فیصلہ کیا ہوگا ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ تاہم اس بدلتے منظر نامے کے حوالے سے جو گفتگو کی جارہی ہے وہ بھی خاصی اہم ہے۔ سیاسی ، صحافتی اور سماجی سطح پر کام کرنے والے لوگ بھلے ہی اس صورت حال کا جائزہ پیش کررہے ہوں لیکن تذبذب اور پس و پیش کی کیفیت ابھی برقرار ہے ۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بی جے پی ، سامنے آنے والے عوامی رجحانات سے مطمئن نہیں ہے ، اس لئے الیکشن ملتوی کرانے کےلئے ماحول اور راستے ہموار کررہی ہے ۔ اکھلیش کی ریلیوں میں لوگوں کی غیر معمولی تعداد سے بر سر اقتدار جماعت میں بے چینی ہے ، یہ تبصرہ اس لئے بھی اہم ہے کہ اقلیتی طبقے کے اہم علماء دانشور اور عام لوگ تو واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک منصوبہ بند سازش اور حکمت عملی کے تحط بی جے پی ایسی حکمت عملی وضع کر رہی ہے ، جس کے ذریعے لوگوں کے مابین مذہبی فاصلے اور منافرت پیدا کرکے آئندہ الیکشن میں سیاسی مفاد حاصل کیا جاسکے اور اقتدار کی راہیں ہموار کی جاسکیں ۔

    الامام ویلفئر سوسائٹی کے صدر عمران صدیقی کہتے ہیں کہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ اسے کن خطوط پر کام کرکے مفاد حاصل ئوسکتا ہے ۔صدیقی یہ بھی کہتے ہیں کہ  بی جے ہی کے پاس  کام کے نام پر دکھانے کو کچھ نہیں، کوئی ایسا  سچا اور حقیقی منصوبہ نہیں جس کو لے کر وہ عوام کے درمیان جا سکے ۔ لہٰذا اسے اپنی اسی دھارمک سیاست کی طرف لوٹنا پڑ رہا ہے ، جس پر چل کر اُسے اقتدارملا تھا ۔ یہ بی جے پی کی سیاسی مجبوری ہے لیکن اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے  ۔

    حال ہی میں سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے والے معروف سیاسی و سماجی کارکن سید بلال نورانی کے مطابق منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے لوگ  سیاسی تبدیلی کے متقاضی و متمنی نظر آتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ لوگ اس بار تمام جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے ساتھ آئیں گے بلال نورانی  اور  کئی اہم سماجی اراکین یہ بھی مانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اکھلیش یادو کے ذریعے کئے گئے کاموں کو بھنا نے کی کوشش کی لیکن اب لوگ سمجھ چکے ہیں کہ صرف منفی سیاست اور نفرت سے دیش پردیش نہیں چلے گا لوگوں کو نفرت کی نہیں ترقی اور تحفظ کی ضرورت ہے ، جس کا فقدان موجودہ اقتدار میں دیکھا جارہا ہے ۔

    مسلم پرسنل لاء بورڈ آف انڈیا کے صدر قاری یوسف عزیزی  کہتے ہیں کہ کانپور ۔ علی گڑھ، اِندور  اور کشی نگر سمیت کئ شہروں میں رونما ہوئے واقعات  یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ بی جے پی کیا چاہتی ہے ، جہاں تک بات اقلیتوں کی ہے ، تو یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جن غالات سے اقلیتی طبقہ گزرا ہے اس کی کوئی دوسری نظیر نہیں۔ عزیزی یہ بھی کہتے ہیں کہ اقلیت آئندہ الیکشن میں کس سیاسی جماعت کے ساتھ جائے گی،اقلیت کا  ووٹ کس حد تک تقسیم ہوگا یہ ابھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا لیکن اتنا ضرور ہے کہ جتنا ووٹ اقلیت سے بی جے پی کو گزشتہ الیکشن میں ملا تھا اس بار اتنا نہیں مل پائے گا۔

    یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بر سر اقتدار سیاسی جماعت کے لوگ یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ سب جماعتیں خوش فہمی میں مبتلا ہیں ۔ بی جے ہے کے شفاعت حسین کہتے ہیں کہ اترپردیش میں حکومت بی جے پی ہی بنائے گی۔ اس تجزیے کی روشنی میں سب کے اپنے اپنے خواب  دعوے ، یقین ، گمان اور قیاس آرائیاں ہیں لیکن اس میں دو رائے نہیں کہ جس انداز کی سیاست ہو رہی ہے اور مذہبی بنیادوں پر جو وارداتیں ہو رہی ہیں ان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک بار پھر ریاست کے لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سیاست سرگرم ہوچکی ہے ۔

    لیکن یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ملک کے ہر باشندے ہر شہری کی یہ ذمہداری ہے کہ الیکشن کمیشن کی تجزیاتی اور مشاہداتی بنیادوں پر الیکشن کے تعلق جو کچھ بھی اعلانات کئے جائیں ان کو قبول کیا جائے اور ساتھ ہی ریاست و ملک میں کورونا اور اومیکران کے بڑھتے خدشوں اور اندیشوں جے تدارک کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے ہم اور ہمارے ملک کے لوگ محفوظ رہ سکیں ۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: