ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اوریا سڑک حادثہ : لاشوں کے ساتھ زخمی مزدوروں کو ٹرک میں بھیجنے کے معاملہ نے پکڑا طول ، جانئے کیوں

گزشتہ 16 مئی کو یوپی کے اوریا علاقہ میں ہونے والے خوفناک سڑک حادثہ میں پیدل سفر کر رہے 26 مزدوروں کی موت واقع ہو گئی تھی ۔ اس حادثہ میں درجنوں مزدور زخمی بھی ہوئے تھے ۔

  • Share this:
اوریا سڑک حادثہ : لاشوں کے ساتھ زخمی مزدوروں کو ٹرک میں بھیجنے کے معاملہ نے پکڑا طول ، جانئے کیوں
اوریا سڑک حادثہ : لاشوں کے ساتھ زخمی مزدوروں کو ٹرک میں بھیجنے کے معاملہ نے پکڑا طول ، جانئے کیوں

الہ آباد : اوریا سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشیں زخمی مزدروں کے ساتھ ایک ہی ٹرک میں لوڈ کرنے کے معاملہ نے اب طول پکڑلیا ہے ۔ حادثہ میں مرنے والے مزدوروں کی کورونا جانچ نہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کے ساتھ ٹرک میں سفر کر رہے زخمی مزدوروں میں خوف ہراس پھیل گیا ہے ۔  گزشتہ 16 مئی کو یوپی کے اوریا علاقہ میں ہونے والے خوفناک سڑک حادثہ میں پیدل سفر کر رہے 26 مزدوروں کی موت واقع ہو گئی تھی ۔ اس حادثہ میں درجنوں مزدور زخمی بھی ہوئے تھے ۔  مقامی افسران نے حادثے میں مرنے والے مزدوروں  کی لاشوں کے ساتھ ہی زخمی مزدوروں کو بھی ٹرکوں میں سوار کرکے ان کی منزلوں کی طرف روانہ کر دیا تھا ۔ مرنے والے مزدوروں میں 17 کا تعلق مغربی بنگال اور جھارکھنڈ سے تھا ۔


چوبیس گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزرنے بعد لاشوں سے سخت تعفن پیدا ہونے لگا ۔ لاشوں کے ساتھ  سفر کر رہے زخمی مزدوروں نے اس کی شکایت مقامی افسران سے بھی کی تھی ۔ لیکن افسران نے زخمی مزدروں کی شکایت پر کان نہیں دھرا تھا ۔ اس معاملہ نے طول اس وقت پکڑلیا ، جب جھار کھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ٹویٹ کرکے یوپی حکومت کے خلاف اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے یوپی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس صورت حال کونہایت غیر انسانی اور غیر حساس قرار دیا ۔


لاشوں اور زخمیوں سے بھرا ٹرک جب الہ آباد کے نواب گنج علاقہ میں پہنچا تو مقامی پولیس نے ہائی وے پر ٹرک روک لیا ۔ موقع پر موجود الہ آباد زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کوندر پرتاپ سنگھ نے ٹرک میں موجود 17 لاشوں کو اتار کر اے سی ایمبولینس میں شفٹ کرنے کا حکم دیا ، جس کے بعد پر ہائی وے پر موجود 6 اے سی ایمبولینس میں 17 لاشوں کو شفٹ کیا گیا ۔ 17 لاشوں میں 11 لاشوں کا تعلق جھار کھنڈ کے بوکارو علاقہ سے تھا ، جبکہ چھ لاشوں کا تعلق مغربی بنگال کے پرولیا علاقے سے تھا ۔ لاشوں کو ٹرک سے شفٹ کرنے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگ گیا ۔ لاشوں کو پلاسٹک کے بیگ میں پیک کیا گیا تھا ، جس کی وجہ سے پورے علاقہ میں سخت بدبو پھیل گئی ۔


لاشوں کے ساتھ سفر کرنے والے مزدروں کا کہنا تھا کہ سڑک حادثہ میں مرنے والے افراد کا ابھی تک کورونا ٹیسٹ نہیں ہوا ہے ۔ ان کو خوف ہے کہ اگر مرنے والوں میں کوئی کورونا وائرس سے متاثر ہوا تو لاشوں کے ساتھ سفر کرنے والے مزدوروں کو بھی سخت خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشوں کے ساتھ مبینہ بے حرمتی کے معاملہ میں سماج کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آ رہا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد الہ آباد  کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بعض سماجی تنظیموں نے اوریا سڑک حادثہ میں مرنے والے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ سماجی کارکنان نے اوریا سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کی لاشوں کے ساتھ مبینہ بے حرمتی پر ریاستی حکومت کے رویہ کی شدید مذمت کی ۔

سماجی کارکن حسیب احمد نے کہا کہ زخمی مزدوروں کو لاشوں کے ساتھ ٹرک میں لوڈ کرکے ریاستی حکومت نے اپنی بے حسی کا ثبوت دیا ہے ۔ کانگریس کے سینئیر لیڈر پرمود تیواری نے بھی اس معاملہ میں یوگی حکومت کو پوری طرح سے ذمہ دار ٹھرایا ہے ۔ اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرمود تیواری نے کہا کہ لاشوں کے ساتھ زخمی مزدروں کو ایک ٹرک میں ٹھونس کر ریاستی حکومت غیر انسانی عمل کی مرتکب ہوئی ہے ۔
First published: May 19, 2020 12:10 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading