உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رمضان کے ماہ میں مسلم شخص کے صحن میں ہندو بیٹی نے لئے 7پھیرے، پیش کی گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال

    The best example of Ganga-Jamni Tehzeeb: راجیش چورسیا اپنی بھانجی کی شادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اس دوران اس نے اپنے پڑوس میں رہنے والے پرویز سے اپنی بھانجی کی شادی کے لیے منڈپ لگانے کیلئے کہا۔ یہ سن کر پرویز نے گنگا جمنی تہذیب کی کہانی لکھ ڈالی۔

    The best example of Ganga-Jamni Tehzeeb: راجیش چورسیا اپنی بھانجی کی شادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اس دوران اس نے اپنے پڑوس میں رہنے والے پرویز سے اپنی بھانجی کی شادی کے لیے منڈپ لگانے کیلئے کہا۔ یہ سن کر پرویز نے گنگا جمنی تہذیب کی کہانی لکھ ڈالی۔

    The best example of Ganga-Jamni Tehzeeb: راجیش چورسیا اپنی بھانجی کی شادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اس دوران اس نے اپنے پڑوس میں رہنے والے پرویز سے اپنی بھانجی کی شادی کے لیے منڈپ لگانے کیلئے کہا۔ یہ سن کر پرویز نے گنگا جمنی تہذیب کی کہانی لکھ ڈالی۔

    • Share this:
      Azamgarh: اعظم گڑھ سے ایک پازیٹو خبر سامنے آرہی ہے جسے دیکھ کر ہر کوئی سراہ رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں جہاں فرقہ وارانہ واقعات ملک کے سماجی تانے بانے کو متاثر کر رہے ہیں وہیں باہمی ہم آہنگی کے کچھ ایسے واقعات (The best example of Ganga-Jamni Tehzeeb) بھی رونما ہوئے ہیں جو لوگوں کو مل جل کر رہنے کا درس دیتے ہیں۔ اس دوران اعظم گڑھ ضلع سے گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال پیش کرنے والی تصویر سامنے آئی ہے۔ دراصل ایک مسلم خاندان نے ہندو بیٹی کی شادی کے لیے اپنے آنگن میں سات پھیرے لگانے کے لیے نہ صرف منڈپ سجوایا بلکہ شادی میں ہندو مسلم خواتین مل کر رات بھر منگل گیت گاتی رہیں۔ جس کی وجہ سے شادی کی تقریب میں چار چاند لگ گئے۔ یہی نہیں مسلم خاندان Muslim family نے شادی کے اخراجات میں بھی بڑا حصہ ڈالا۔

      اعظم گڑھ شہر کے ایلوال علاقے کے رہنے والے راجیش چورسیا پان کی دکان لگا کر اپنا اور اپنے کنبے کا گزارا کرتے ہیں۔ ان کی بہن شیلا کے شوہر کا دو سال قبل کورونا کے دور میں انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد چورسیا نے اپنی بھانجی کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی بھانجی پوجا کی شادی بھی طے کر دی، لیکن مشکل یہ تھی کہ راجیش کے پاس رہنے کے لیے گھر کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہی نہیں ان کی مالی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی بھانجی کی شادی بہتر طریقے سے سے کر سکیں۔

      یہ بھی پڑھیں: CBSE نے اسلام سے متعلق معلومات والا مواد اورفیض کی نظموں سمیت کئی عنوانات کو نصاب سےہٹوایا

       اعظم گڑھ ضلع سے گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال پیش کرنے والی تصویر ۔
      اعظم گڑھ ضلع سے گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال پیش کرنے والی تصویر ۔


      راجیش چورسیا اپنی بھانجی کی شادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ اس دوران اس نے اپنے پڑوس میں رہنے والے پرویز سے اپنی بھانجی کی شادی کے لیے منڈپ لگانے کیلئے کہا۔ یہ سن کر پرویز نے گنگا جمنی تہذیب کی کہانی لکھ ڈالی۔ پرویز کے گھر کے صحن میں نہ صرف منڈپ سجایا گیا بلکہ منگل گیت بھی گائے گئے۔ اس کے بعد 22 اپریل کو جونپور ضلع کے ملہانی سے جب جلوس پرویز کے آنگن میں پہنچی تو دوارچار اور ویدک منتروں کے درمیان سات پھیروں اور سندور کی رسم مکمل ہوئی۔ اس دوران ہندو اور مسلم خواتین دیر رات تک شادی میں منگل گیت گاتی رہیں۔

      بارات کی روانگی سے قبل صبح جب کھچڑی کی رسم شروع ہوئی تو راجیش نے اپنی استطاعت کے مطابق دولہے کو خوش کیا، پھر اسی رسم کے دوران پڑوسی پرویز نے دلہن کے گلے میں سونے کی سیکڑ پہنائی  جس سے شادی کی تقریب میں خوشی اور چار چاند لگ گئے۔

      مزید پڑھئے: OMG: شخص کو پولیس پکڑنے گئی تو کتے کے ساتھ ہی کردی انتہائی خوفناک حرکت

      اسی دوران پرویز کی اہلیہ نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں ہم نے اپنے  گھر پر پوجا کرائی اس کا ہمیں کوئی شکوہ نہیں ہے، لیکن ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کی ہے۔ یہ بھی کہا کہ مذہب سب کا الگ ہو سکتا ہے لیکن ہم نے انسانیت نبھائی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: