ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بغیر اجازت داڑھی رکھنے پر مسلم پولیس اہلکار کو کیا گیا معطل، ایس پی نے بھیجا تھا نوٹس

ایس پی ابھشیک سنگھ (SP Abhishek Singh) کے مطابق پولیس مینول کے مطابق پولیس اہلکار داڑھی نہیں رکھ سکتا اور اگر کوئی رکھنا چاہتا ہے تو اسے انتظامیہ سے اجازت لینی ہوگی۔ ان کے مطابق داروغہ انتصار علی (SI Intsar Ali) نے اجازت لیے بغیر ہی داڑھی (Beard) رکھ لی۔

  • Share this:

باغپت: یوپی کے باغپت (baghpat) جنپد کے رامالا تھانے میں تعینات سب انسپکٹر انتصار علی (SI Intsar Ali) کو بغیر اجازت لمبی داڑھی (Beard) رکھنے کے الزام میں پولیس سپرنٹنڈنٹ نے معطل (suspended) کرتے ہوئے پولیس لائن (police lines) بھیج دیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ انتصار علی کو تین مرتبہ داڑھی کٹوانے کی وارننگ دی تھی۔ ساتھ ہی انہیں داڑھی رکھنے کیلئے محکمہ سے اجازت لینے کو بھی کہا گیا تھا لیکن گزشتہ کئی ماہ سے دروغہ انتصار علی حکم کو اندیکھا کرتے ہوئے داڑی رکھ رہے تھے۔


باغپت (baghpat) کے ایس پی ابھشیک سنگھ نے داڑھی رکھنے پر داروغہ (Sub-inspector in Uttar Pradesh Police) کو معطل کردیا ہے۔ ایس پی ابھشیک سنگھ (SP Abhishek Singh) کے مطابق پولیس مینول کے مطابق پولیس اہلکار داڑھی نہیں رکھ سکتا اور اگر کوئی رکھنا چاہتا ہے تو اسے انتظامیہ سے اجازت لینی ہوگی۔ ان کے مطابق داروغہ انتصار علی (SI Intsar Ali) نے اجازت لیے بغیر ہی داڑھی (Beard) رکھ لی۔ جس کی شکایت ملنے پر انہیں نوٹس جاری کیا گیا ہے لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔ ضابطہ شکنی کرنے پر ان کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔


سہارن پور کے رہائشی انتصار علی (SI Intsar Ali) یوپی پولیس میں ایس آئی (Sub-inspecto) کے عہدے پر تھے اور گزشتہ تین سال سے وہ باغپت میں ہی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے پہلے انہیں رمالا تھانے میں تعیناتی دی گئی تھی۔

SCHEDULE TIME TABLE: ایس پی ابھیشیک سنگھ نے نیوز 18 کو بتایا کہ پولیس مینول کے مطابق پولیس فورس میں تعینات رہتےہوئے سکھ کمیونٹی کے پولیس اہلکاروں کے سوا کوئی دوسرا افسر یا ملازم داڑھی نہیں رکھ سکتا اور اگر کوئی اسے رکھنا چاہتا ہے تو اسے انتظامیہ سے اجازت لینی ہوگی لیکن انسپکٹر انتصار علی (SI Intsar Ali) نے بغیر اجازت کے ہی داڑھی رکھ رہے تھے جس کی شکایت موصول ہو رہی تھی، کافی سمجھانے اور نوٹس دینے کے باوجود بھی انہوں نے داڑھی نہیں کٹوائی۔ اس پر سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 22, 2020 05:58 PM IST