ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مہلک وبا کورونا سے نجات کیلئے سرکاری ، طبی اور سماجی محاذوں پر جنگ کی ضرورت

کورونا کی بڑھتی وبا اور اس کے نتائج میں پیدا ہونے والی خوف وہراس کی فضا نے انسانی زندگی کو اجیرن بنانے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سے احساس میں مبتلا کردیا ہے ۔

  • Share this:
مہلک وبا کورونا سے نجات کیلئے سرکاری ، طبی اور سماجی محاذوں پر جنگ کی ضرورت
مہلک وبا کورونا سے نجات کیلئے سرکاری ، طبی اور سماجی محاذوں پر جنگ کی ضرورت

کورونا کی بڑھتی وبا اور اس کے نتائج میں پیدا ہونے والی خوف وہراس کی فضا نے انسانی زندگی کو اجیرن بنانے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سے احساس میں مبتلا کردیا ہے ۔ شب و روز بڑھنے والے کیسز اور اموات کے سلسلے نے جہاں حکومت کے لئے مسائل کھڑے کردئے ہیں ، وہیں محکمہ صحت اور طبی میدانوں کے ماہرین کے لئے بھی چیلنجر کا سامنا ہے ۔ حکومت کی جانب سے بار بار اشارے دئے جارہے ہیں کہ جب تک کورونا کی کوئی تسلیم شدہ دوا یا ویکسین نہیں آتی اس وقت تک احتیاط ہی اس کا واحد علاج ہے ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے محمکہ صحت کو ہمہ وقت بیدار رہنے ، اسپتالوں کے نظام کو بہتر بنانے اور سنیٹائز یشن کو مسلسل جاری رکھنے کے احکامات کے با وجود  بھی اسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ متاثرہ مریض اور عام انسان اسپتال کے نام سے خوف کھانے لگے ہیں ۔


حال ہی میں کورونا سے جنگ جیت کر کام پر واپس آئے معروف معالج ڈاکٹر سلمان خالد کہتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر دواؤں کے استعمال اور لوگوں کی دُعاؤں سے انہیں اس مہلک کورونا سے چھٹکارا ملا ہے ۔ سلمان خالد مشورہ دیتے ہیں کہ اس سے بچنے کا سب سے بہتر  طریقہ اپنے گھر میں قید رہنا اور تمام احتیاطوں کی پاسداری ہے ۔ یہ عمل مشکل ضروری ہے لیکن ناممکن نہیں ۔


معروف معالج اور کے جی ایم یو کے پروفیسر ڈاکٹر کوثر عثمان کہتے ہیں کہ ہر چند کہ ہلاکتیں کم ہیں ۔ تاہم اس مہلک وائرس سے بچنے کے لئے نظام زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ قوت مدافعت بڑھانے والی کچھ دوائیں ایسی ضرور ہیں جن کے مستقل استعمال سے اس وبا سے بچا جا سکتا ہے ۔ لیکن ان دواوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازمی ہیں ۔


ڈاکٹر کوثر عثمان کہتے ہیں کہ موجودہ وقت میں حکومت اور محکمہ صحت کے انتظامات ، فراہم کی جانے والی طبی خدمات نیز اسپتالوں کی صورت حال پر تنقید و تبصرہ کرنے کی بجائے لوگوں کو چاہئے کو وہ پورے معاشرتی اور سرکاری نظام کی تبدیلی کی فکر چھوڑ کر اپنے انفرادی اور خاندانی نظام کو درست کریں ۔ وبا کے اس بد ترین دور سے مشترکہ کوششیں ہی دشواریوں سے نجات کا ذریعہ بن سکتی ہیں ۔ لوگوں کو چاہئے وہ اپنی مدد کریں،  سماجی سطح پر لوگوں کی امداد کریں اور ساتھ ہی اس مہلک وائرس سے بچنے کی تدبیروں میں حکومت کا بھی ہر ممکن تعاون کریں  ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 18, 2020 04:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading