ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کورونا کی تباہ کاری اور محرّم و عزاداری ، جانئے کیا کہتے ہیں علما کرام

معروف عالم دین اور شیعہ مرکزی چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس کہتے ہیں کہ ابھی محرم کے تعلق سے سرکاری ہدایات کا انتظار کررہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ جیسے اہل ایمان نے رمضان، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو اپنے گھروں میں رہ کر منایا ہے ، اسی طرح اپنے گھروں میں حسین اور ناصران حسین کا غم بھی منایا جائے ۔

  • Share this:
کورونا کی تباہ کاری اور محرّم و عزاداری ، جانئے کیا کہتے ہیں علما کرام
کورونا کی تباہ کاری اور محرّم و عزاداری ، جانئے کیا کہتے ہیں علما کرام

لکھنئو : جیسے جیسے محرم قریب آرہا ہے ، اہل بیت سے عقیدت و محبت رکھنے والے لوگ اس تذبذب اور پس و پیش میں مبتلا ہیں کہ کیا اس مرتبہ محرم کی روایات و رسومات سابقہ انداز میں ادا ہو پائیں گی ؟ جلوسوں کی برآمدگی یقینی ہوپائے گی ؟ مجالس کا انعقاد ہوسکے گا ؟ کیا عزاداری کے تمام تقاضے پورے ہوسکیں گے ؟ یہ سوالات کورونا کے بڑھتے قہر اور پیچیدہ ہوتے مسائل نے خاصے اہم کردیے ہیں ۔ واضح رہے کہ عزاداری نہ کبھی رکی ہے اور نہ اسے روکا جا سکتا ہے ، کیونکہ اس کا تعلق اہل بیت سے ہے ، اس لئے مسئلہ عزاداری کا نہیں عزاداروں کا ہے ۔ وبا کے بڑھتے قہر کے پیش نظر انسانی جانوں کے تحفظ کے لئے مراجع کرام بالخصوص آقا سیستانی اور آقا شیرازی کی جانب سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ لوگ مکمل احتیاط اور تحفظاتی اقدامات کے ساتھ ہی محرم سے متعلقہ پروگراموں کا انعقاد کریں ۔ باالخصوص حکومت کے ذریعہ جاری کردہ گائیڈ لائنس کو اپناتے ہوئے ہی کوئی پروگرام ترتیب دیں۔


معروف عالم دین اور شیعہ مرکزی چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس کہتے ہیں کہ ابھی محرم کے تعلق سے سرکاری ہدایات کا انتظار کررہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ جیسے اہل ایمان نے رمضان، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو اپنے گھروں میں رہ کر منایا ہے ، اسی طرح اپنے گھروں میں حسین اور ناصران حسین کا غم بھی منایا جائے ۔ گھروں میں عزا خانے سجائے جائیں ۔ مخصوص لوگوں کے ساتھ مجالس کا اہتمام کیا جائے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہی دیگر عوامل انجام تک پہنچائے جائیں ۔


اس سلسلے میں آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کی جانب سے بھی ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں ، جن میں سرکاری گائیڈ لائنس پر عمل کرنے کی بات کو دوہراتے ہوئے بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہا ہے کہ مومنین آن لائن مجالس کا اہتمام کریں ، جدید طریقہ کار اپنا کر گھروں میں مجالس اور ذکر سنیں ، کسی طرح کی کوئی لاپروائی نہ برتیں ، مصافحہ کرنے اور ہاتھ ملانے سے پرہیز کریں ، تبرکات کی تقسیم میں احتیاط سے کام لیں ، جہاں مجالس منعقد کی جارہی ہوں ، وہاں ماسک اور سوشل ڈسٹنسنگ کو لازمی قرار دیا جائے ۔


شیعہ پرسنل لا بورڈ ( قدیم ) کے بانی مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ غم حسین ہماری میراث ہے ، عزاداری ہمارے فرائض میں شامل ہے ، تمام احتیاطوں کے ساتھ اہل بیت کا غم جیسے ماضی میں منایا جاتا رہا ہے ، ویسے ہی منایا جائے گا ۔ مولانا قمی نے سخت لہجے میں یہ بھی کہا کہ ہر کس و ناکس عزاداروں کو رائے نہ دے ، انہیں معلوم ہے کہ کورونا سے بچنے کی کوشش بھی ضروری ہے اور محرم داری بھی لازمی ہے ۔

مولانا علی حسین نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم لوگ ہر موقع پر حکومت کی گائیڈ لائنس کو اختیار کررہے ہیں ، لیکن محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لئے نہ کوئی قانون ہے نہ ضابطہ ۔ وہ بھومی پوجن سے لے کر سنگ بنیاد تک اپنی تمام مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں ۔ سیاسی مفاد کے حصول کے لئےاپنے تمام منفی و مخفی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں ۔ لیکن دوسرے  مذاہب کے لوگوں کے لئے آئین و قانون کی دہائی بھی دی جاتی ہے اور کورونا کے قہر کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے ۔ مختلف علما کرام کی مختلف آرا سامنے آرہی ہیں ۔ تاہم تحفظاتی اقدامات کرنے کی بات سب کر رہے ہیں۔

مجموعی طور پر جو تاثر سامنے آرہا ہے اس کے مطابق یہی بہتر ہے کہ جتنی سنجیدگی صبر اور استقامت کا مظاہرہ لوگوں نے عید اور عیدِ قرباں کے موقع پر کیا ہے ، محرم کے سوگوار موقع  اور رنج و الم کے ماحول میں بھی اسے ملحوظ رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ صبر و تحمل اور اہل بیت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 08, 2020 01:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading