உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ : ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں اضافے کے بعد سوجھ بوجھ سے کام کررہا ہے میڈیکل اسٹاف

    میرٹھ : ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں اضافے کے بعد سوجھ بوجھ سے کام کررہا ہے میڈیکل اسٹاف

    میرٹھ : ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں اضافے کے بعد سوجھ بوجھ سے کام کررہا ہے میڈیکل اسٹاف

    کورونا وبا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جہاں سرکاری سطح پر ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو وہیں ٹیکہ کاری مہم کو کامیاب بنانے میں میڈیکل اسٹاف اور سماجی اور ملّی خدمت گاروں کے کوششیں بھی رنگ لا رہی ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    میرٹھ : کورونا وبا کے خطرے سے نمٹنے کے لیے جہاں سرکاری سطح پر ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کے ساتھ لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو وہیں ٹیکہ کاری مہم کو کامیاب بنانے میں میڈیکل اسٹاف اور سماجی اور ملّی خدمت گاروں کے کوششیں بھی رنگ لا رہی ہیں ۔ میرٹھ کے لکھی پورا اور احمد نگر جیسے پچھڑے علاقوں میں ٹیکہ کاری مہم اسی کی ایک مثال پیش کرتی نظر آ رہی ہے ۔

    ویکسینیشن کے شروعاتی مرحلے میں میرٹھ کے لکھی پورا لساڑی روڈ اور احمد نگر جیسے علاقوں میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد کافی کم رہی ، لیکن گزشتہ کچھ ماہ میں ان علاقوں میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ اب حالات یہ ہیں کہ مقامی ہیلتھ پوسٹ پر آنے والوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے اضافی ڈوز حاصل کرنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے ۔ وہیں میڈیکل اسٹاف کو سوجھ بوجھ سے ویکسین کو برباد ہونے سے بچانے کے ساتھ اضافی ڈوز تیار کرکے حاصل ہونے کوٹے سے زیادہ ویکسین لگائی جا رہی ہے ۔

    ویکسینیشن کی اس مہم کو کامیاب بنانے میں مقامی ہیلتھ پوسٹ اسٹاف کے علاوہ مقامی سماجی اور ملّی تنظیموں کے ذمہ داران نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مقامی ہیلتھ پوسٹ اسٹاف کے لوگ جہاں اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھ رہے ہیں کہ ویکسین کا ایک بھی قطرہ ضائع نہ ہو تو وہیں علاقے کے مقامی ذمہ داران کوشش کر رہے ہیں کہ ایک بھی فراد ویکسین لگانے سے قاصر نہ رہ جائے ۔

    کورونا کی دوسری لہر میں تباہی کا منظر دیکھ چکے لوگ اب آنے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے بیدار بھی ہو رہے ہیں اور تیار بھی ہورہے ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: