உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش : عوامی مسائل کا بحران اور سہولیات کا فقدان

    اترپردیش : عوامی مسائل کا بحران اور سہولیات کا فقدان

    اترپردیش : عوامی مسائل کا بحران اور سہولیات کا فقدان

    ایک طرف تو مسلسل بڑھتی پریشانیاں اور دوسری جانب سرکاری مراعات و سہولیات کا فقدان ، اس صورتحال نے لوگوں کی زندگی جو مزید دشوار بنا دیا ہے ۔

    • Share this:
    لکھنئو : صرف اتر پردیش ہی نہیں بلکہ پورا ملک جن حالات اور بحران سے گزر رہاہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنئو میں معاشی اور کاروباری مسائل اس حد تک سنگین ہیں کہ زردوزی اور چکن کاری کے دستکاروں اور فنکاروں کو دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے رکشہ چلانا پڑ رہاہے ۔ چھوٹی چھوٹی صنعتیں حکومت کی عدم توجہی اور کورونا کے سبب پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔ چوک پاٹا نالہ کے باشندے محمد اشرف کے مطابق پہلے بارہ گھنٹے کی محنت کے بعد چار سو روپے روزانہ کماتے تھے ، پھر دھیرے دھیرے کام کم ہوا تو آمدنی گر گئی اب عالم یہ ہے کہ اب ستّر اسّی روپے کا کام مشکل سے ہوپاتا ہے ۔ جہاں سرسوں کا تیل دوسو روپے کلو اور دال ایک سو اسی روپے کلو ملتی ہو وہاں ستر اسی روپے میں گھر کیسے چلے گا ۔ مجبور ہوکر رکشہ کرائے پر لیا ۔ مصیبت یہ ہے کہ جتنا کماتے ہیں اس کا آدھا رکشہ مالک کو دینا پڑتا ہے ۔ کسی طرح اچھے دنوں کی آس میں برے دن گزر رہے ہیں ۔ یہ صرف زردوزی کے بہترین کاریگر اشرف کی ہی نہیں بلکہ ایسے سیکڑوں لوگوں کی کہانی ہے جو اپنے فن اور ہنر سے دستبردار ہوکر بیل داری اور محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور وقت کی ستم ظریفی  یہ ہے کہ محنت مزدوری کرنے والے لوگوں کے لئے بھی روز کام نہیں کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں۔

    سرکاروں کے اپنے دعوے اور خوش فہمیاں ہیں ، لیکن حقیقی منظر نامہ یہی ہے کہ لوگ بدحالی اور پریشانی کے زندگی گزار رہے ہیں یہاں بنیادی سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سماج کے جن لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کا صحیح انتظام نہیں ، وہ بچوں کی تعلیم کا انتظام کیسے کریں گے ۔ اچھی زندگی کے خواب کیسے دیکھیں گے ۔

    معروف سیاسی لیڈر معید احمد کہتے ہیں کہ معاشرے کا بکھرتا نظام یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ موجودہ اقتدار میں لوگ بد ترین عہد سے گزر رہے ہیں ۔ معید احمد کے مطابق اس عہد میں اگر کسی چیز کو فروغ ملا ہے تو وہ ایسی نفرت اور تعصبانہ روش ہے جس کی بنیاد پر ایک مخصوص مذہب کے لوگوں کو منظم سازش کے تحت ہدف بنایا گیا ہے ۔ مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے حکمرانوں نے ایک مخصوص طبقے اور مذہب کے لوگوں کی تباہی بربادی اور استحصال کے لیے جو حکمت عملی وضع کی تھی اس پر تو پوری طرح عمل ہوا ہے، لیکن  باقی سارے منصوبے اور خاکے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ  ریاست کا بڑا طبقہ اسے ہی اپنی ترقی اور وکاس سمجھ رہاہے۔ آسمان چھوتی مہنگائی، بڑھتی بے روزگاری، جرائم کی مسلسل وارداتیں اور مذہبی منافرت یہ وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے عام آدمی بد ترین زندگی  گزارنے پر مجبور ہے ۔

    معروف صحافی  اور سیاسی تجزیہ نگار عامر صابری کے مطابق ملک کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ لوگ اب احتجاج کی طاقت سے محروم ہوتے جارہے ہیں، حق و انصاف کے لئے اٹھنے والی آوازوں کے خلاف جس انداز سے سرکاری مشینری اقدامات کرتی ہے ، اس سے لوگوں میں عدل و انصاف نہ ملنے کے احساس کو تقویت ملی ہے اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو یہ لگنے لگا ہے کہ ان کے لئے زمینیں اور ذہنیتیں تنگ ہوچکی ہیں ۔ انہیں دوسرے درجے کا شہری تصور کرکے ہر محاذ پر استحصال کیا جارہا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اب لوگ اپنے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی بازیابی کے لئے آواز بھی نہیں اٹھا رہے ہیں ۔

    صابری یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی جمہوریت کی زندگی اور ترقی کا دار و مدار اس کے شہریوں کو دی جانے والی سہولیات اور حقوق پر منحصر ہے اور اگر زندگی کے بنیادی حقوق ہی نہیں ملیں گے ، تو ملک کی ترقی کیسے ممکن ہے ۔ لہٰذا صاحب اختیار  اور بر سر اقتدار لوگوں کو چاہئے کہ وہ عوام کے بنیادی حقوق کی بازیابی کو یقینی بنائیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: